AMIN IQBAL BLOGS

انسان کا جاب کارڈ-INSAN KA JOB CARD

انسان کا جاب کارڈ

انسان جیسے اس دنیا میں آتا ھے۔اسکا جاب کارڈ پہلے سے تیار ھوتا ھے۔پہلی نظر میں،پہلے سے موجود انسان طے کر لیتے ھیں،یہ لگتا کس طرح کا ھے،یہ بڑا ھو کر کیسا نکلے گا اور اسے بڑا ھو کر بننا کیا چاھئیے۔جوں جوں آپ ھوش سنبھالنے لگتے ھیں۔آپ کے اردگرد والے اپنا ضروری فریضہ سمجھ کر روز ، چودہ گھنٹے آپ کے کان میں اپنے نقطے پھونکتے رھتے ھیں۔سکول جانے سے پہلے آپ اُنکے خیالات پر ایمان لا چکے ھوتے ھیں۔آپ کو آپ کا زاتی آئینہ بھی وھی دکھا رھا ھوتا ھے ـ جو آپ نے دوسروں کی نظروں سے دیکھا ھوتا ھے۔اسکے بعد آپکی زندگی کی سب سے اھم سٹیج آتی ھے ۔آپکو ایک جگہ بھیجا جاتا ھیں۔جہاں سے وہ بن کے نکلنا ھے۔جو دوسرے آپکے بارے سوچ رھے ھیں۔اس کارخانے کو سکول کہتے ھیں۔ھم بہت خوشی سے سکول جاتے ھیں۔کیوں کہ پانچ سال تک ایک ھی طرح کے لوگوں کی تبلیغ سن کر پک چکے ھوتے ھیں۔لیکن پہلے دن ھی پتہ چلتا ھے پکنے والی اصل جگہ تو اب پہنچے ھیں۔آپکا اصل امتحان تعلیم لیتی ھے۔آپ کو چودہ یا سولہ سال کی تعلیم کے بعد پتہ چلتا ھے۔کہ آپ ونرز ھیں یا لوزرز۔آپ کے سکول کالج کے دن بہت کربناک ھوتے ھیں۔ھر تیں ماہ بعد ھمارا رپورٹ کارڈ اپنے ماں باپ کے سامنے ھمارا امتحان لے رھا ھوتا ھے۔ماں باپ بھی اس رپورٹ کارڈ کو بچوں کی ٹیسٹ رپورٹ سمجھنے کی بجائے اپنی معاشرے میں عزت کا سروے رپوٹ سمجھنے لگتے ھیں۔آپ اس نمبرز گیم کے اتنے دباؤ میں آ جاتے ھیں کہ آپ کو چیٹنگ،رٹا،اور جھوٹ ،دل لگا کے سیکھنا پڑتا ھے۔ کالج، یونیورسٹی سے نکلتے ھوئے خوشی ھوتی ھے کہ چلو اب جینے کی آزادی ملے گی۔لیکن جب سے آپ کے جسم نے سیکس کی ڈیمانڈ شروع کی تھی تب سے ایک جاب اور آپکو دے دی گئی تھی۔محبت کرنے کی جاب ۔محبت کے چورن سے سیکس میں ھمارے ھاں آسانی رھتی ھے ۔اس لئیے ھزاروں سال کی محبت کے تجربات کا سبق ھمیں منٹوں میں یاد ھو جاتا ھے۔اس لئے ھم محبت کے لئیے لڑکی\لڑکا کی تلاش میں نکل پڑتے ھیں۔اس بیچ ھمیں ایک اور چورن ھمارے اخلاقی رتبے کو بڑھانے کے لئیے بیچا جاتا ھے۔ وہ ھے سولمیٹ چورن۔یہ ھم اپنے فخر کے لئیے اور چونکہ تھوڑا چیلنجنگ بھی ھوتا ھے فوراً خرید لیتے ھیں۔پہلے بریک اپ کے بعد پتا چلتا ھے ۔بھلانے کے لئیے رو لو یا پھر غمگین میوزک سنو اگر تھوڑے کمزور دل ھو تو چھوٹی سی خودکشی کی کوشش کر ڈالو۔تیسرے بریک اپ کے بعد ھمیں سوچ مجبور کرتی ھے سوچنے پر۔ کیا وجہ ھے ۔سولمیٹ کیوں نہیں مل رھا؟اور ھر بار رشتہ بریک کیوں ھو رھا ھے ؟تو پتہ چلتا ھے ۔لڑکا\لڑکی نے ایک دوسرے میں محبت کیلئے جو تلاش کرنے کی کوشش کی وہ بھی اردگرد والوں کا بتایا ھوا تھا۔پہلی بار آپ سوچتے ھیں،میں نے ھمیشہ دوسروں کی سوچ کے مطابق زندگی کو دیکھا کیا میری اپنی کوئی نظر نہیں؟پھر میری آنکھوں کا فائدہ؟اب آپ نکلتے ھیں اپنی سوچ سے اپنی پسند سے محبت کی تلاش میں۔اب ایسے میں وہ لڑکا\لڑکی اگر مل جائیں جو زندگی کے اِسی فیز میں ھیں اور دونوں کا سٹیٹ آف مائنڈ بھی same چل رھا ھو۔تو وہ سولمیٹ مل گیا کی خوشی میں شادی کر لیتے ھیں۔شادی نبھانے کا ایک الگ جاب کارڈ ھمارے سامنے رکھ دیا جاتا ھے۔لڑکے کو زمہ دار بننا ھے ۔زمہ داری کا مطلب ھےٹائم پر کام پر جانا ۔ھر مہنے بغیر کوئی کٹوتی کے پوری تنخواہ گھر لانا ۔اور لڑکی کی ذمہ داری ھے کہ وہ سگھڑ نہیں ھے تو فوراً بنے۔سگھڑ کا مطلب ھے اسے گھر کے تمام کام کرنا آتے ھوں۔یہ دونوں ھر ویک اینڈ پر ذمہ داریوں کو گھر میں لاک کر کے فلم دیکھتے ھیں ۔پاپ کارن کھاتے ایک دوسرے کے جسم پر اپنی کہنیاں رگڑتے ھیں۔ایک جوس کے گلاس میں دو سٹرا ڈال کر پیتے ھیں۔گول گپوں کو کھانے کے دوران ایک دوسرے کا چھوڑا کھٹا پی کر محبت کا دم بھرتے ھوئے خود کو یقین دلاتے ھیں ۔ھم خوش ھیں:سنڈے کی رات پھر اداسی چھا جاتی ھے۔کل سے پھر باس کی چکی میں پسنا ھو گا۔اس دوران اردگرد والے بتاتے ھیں کہ ابھی اصلی خوشی تو دیکھی نہیں؛سولمیٹ کی اصلی خوشی تو تب دیکھو گے جب بچہ پیدا کرو گے۔اور دونوں اس انجانی خوشی کے لئیے ایک اور انسان کو پیدا کرنے میں لگ جاتے ھیں۔لڑکی نو مہینوں میں ھزاروں موڈ سوئینگز کو دکھلاتی ،تکلیف اور انتھک محنت کے بعد ایک اورانسان کو جنم دیتی ھے۔جیسے ھی یہ نیو بورن ھماری گود میں آتا ھے تو ھمیں اسکے جاب کارڈ کی فکر ھونے لگتی ھے۔اور ھم اپنی چند ادھوری خواھشوں کی تبدیلی کے ساتھ وھی جاب کارڈ اس کے حوالے کر دیتے ھیں۔میرے اس بلاگ کو یہاں تک پڑھتے ھوئے یہ سوال تو ضرور آیا ھو گا کہ یہ تو ھمیشہ سے ھو رھا ھے۔اسکے علاوہ ھم کیا کر سکتے ھیں؟کوئی اور راستہ بھی نہیں۔آپ سوچنے کو یہ بھی سوچ سکتے ھیں کہ امیں اقبال کنفیوژ ھے یا ھمیں بھی کر رھا ھے۔ان سب باتوں کے جواب کے لئیے دوستو اگلے بلاگ کا انتظار کر نا ھو گا۔کچھ سوال اور ھوں تووہ مجھے بھیج دیں۔تا کہ اکٹھا جواب دے سکوں

Please follow and like us:
error2350

16 Comments

  • Orooj

    امین کنفیوژڈ نہ ہو رہا ہے نہ ہی کر رہا ہے وہ تو سوچنےکے لٸے الگ راہ دے رہا ہے
    بنتِ ارسلان

  • Danish

    Highly Appreciated !!!
    Amin Sir Always Inspire Us With Their Beautiful Art Work , Especially In Direction And Writing Too … I Appreciate Your Words And Regularly Following … In The End I’ll Must Say We Need More Humanitarian , Film Maker , Art Lover And Peacemaker For Pakistan . Thanks
    Follower : Danish

  • زاہد مرزا

    عمدہ تحریر، آمین بھائی یہ سب تو نہ مارے معاشرتی سوچ کا حصہ ہے۔ آپ کی تحریر سے پیغام ملتا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو انتہائی احساس ذمہ داری کے ساتھ بسر کرنی چاھے اور دوسروں کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائی سے اجتناب کرا چاھۓ۔
    اگلے ہفتہ انتظار رہے گا

  • Waqar

    Interesting, hilarious, insightful, readable and highly recommended for ladies and lads who trade sex in the garb of love. The last joinder means it’s for almost everyone except the likes Hamza Ali Abbasi as such people do everything in the name of God. Halal mohabat, halal acting, halal politics , halal … Drop it.
    The fact is that the society is quite interested in making us what suits it best. And only acceptable models are appreciated and tolerated by society not the individuals with unique individuality. As individuality threatens the very basics of society tu society ensures to hand over what Amin sb has rightly pointed out a job card of “Dos” and “Don’ts” to determine our fate. Good one Amin sb

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
You cannot copy content of this page