AMIN IQBAL BLOGS

اللہ کی ویڈیو گیم

یہ ان دنوں کی بات ھے ۔جب میرا شعور تازہ تازہ جوان ھوا تھا۔ دوستو آپ تو جانتے ھیں۔جوانی کی بڑے سیاپے ھوتے ھیں۔سب سے بڑا سیاپا تو کنفیوژن کا ھوتا ھے۔ایک طرف شیشے میں خود کو دیکھ کر احساس ھو تا ھے۔ دنیا والے کدھر بزی ھیں ۔ابے ایک کمال کا بندہ تمھارے درمیان آیا ھے۔اس کو دیکھو تم کن چکروں میں پڑے ھو۔ دوسرا بچپن سے یہ سن سن کر کان پک چکے ھوتے ھیں چھوڑو اسکی کیا سننی یہ تو ابھی بچہ ھے۔شعور بالغ ھوتے ھی پہلا زمہ ھم یہ لیتے ھیں ۔پہلےان نام نہاد بڑوں کو تو بتائیں گیں کہ کتنی بڑی چیز تمھارے گھر اتری ھے ۔آپ سب کی طرح میرے کان میں بھی بچپن سے اللہ اکبر کی صدا پڑتی تھی۔اور سننے کو ملتا تھا اللہ ایک ھے۔اور سب کا رازق ھے۔یہ دنیا اُس کی مرضی سے چلتی ھے۔میں نے اپنے اردگرد دیکھا اور سوچا کہ اگر وہ سب کا رازق ھے تو مجھے دوسرا پراٹھا مانگنے پر ماں کا اونچا سُر کیوں سننا پڑتا ھے۔باپ روز آنکھوں میں امید لئے کیوں گھورتا ھے ۔یہ سن کر مسکرا کیوں پڑتا ھے جب کوئی یہ کہتا ھے کہ تمھارا لڑکا جوان ھو گیا بھئی؛ جوان میں ھوا ھوں خوش ابا گھوم رھا ھے ۔کیوں؟

جلد میری دادی نے مجھے اس بات کے پیچھے چھپے راز سے آگاہ کر دیا ۔بچو اب تو نے باپ کو کما کر کھلانا ھے اس نے تمھارے لئے بہت کر لیا۔
ایک تو پہلے ھی یہ سوال تنگ کر رھا تھا کہ اللہ نے ھمارے گھر اتنا راشن کیوں نہیں دیا کہ دوسرا پراٹھا مل سکے۔اوپر سے جب یہ پتا چلا کہ جوان ھونے کا مطلب ھے۔ کام کرنا ،تو اپنا شعور فوراً آپے سے باھر ھو گیا۔شکایتوں کا ڈھیر تھا جو سوالوں کے ساتھ دماغ کی ھارڈ ڈسک میں فٹ نہیں ھو رھا تھا۔فورا نتیجہ نکال لیا کہ ایک تو مجھے اللہ نے غلط گھر اور غلط زمانے میں پیدا کر دیا ھے۔اب اللہ سے شکوہ ایسا شکوہ ھوتا ھے کہ پتا نہیں چلتا یہ شکوہ اُس تک پہنچا ھے یا نہیں؟ تو اسی کنفیوژن میں اپنے رزق کی باگ ڈور اپنے ھاتھ میں لینے کی ٹھان لی۔آپ سب جانتے ھیں فارغ دنوں میں دوست بہت ھوتے ھیں کیوں کہ سب کے پاس ایک کامن چیز ھوتی ھے ،فراغت۔میں نے جب اپنے دوستوں کو بتایا کہ میں نے لائف چینجر فیصلہ لیا ھے۔

آج کے بعد میں اپنی زندگی بدل دوں گا اور اس گٹر جیسی زندگی کو لات مار دوں گا۔تو سب اس فارمولے کو سننے کے لئے بے چین ھو گئے سب نے پوچھا یار ھم کو بھی بتاؤ۔ میں نے بڑے فخر سے بتایا کہ میں آج سے ھیروئن بیچوں گا ۔ سب کی سٹی گم ھو گئی ۔میرا جو سگا دوست تھا فہیم،دوستو سگا دوست وہ ھوتا ھے جو آپکے آئڈیا کو کاپی نا کرے بلکہ اسکی ماں بہن ایک کرے۔ فہیم مجھے سائڈ پر لے گیا۔اور غصے سے بولا یہ کیا بکواس بات کر رھا ھے۔میں نے بھی اپنی جوان شعور کے فخر میں کہا۔تمہیں نظر نہیں آرھا معاشرے میں لوگوں نے کسطرح ھمارے حق پر قبضہ کر رکھا ھے ۔سالا دوسرا پراٹھا کھانے کو نہیں ملتا۔تو فہیم بھی غصے میں بولا،تو کیا حرام کا کھائے گا۔اب دوستو شعور نیا نیا جوان ھوا تھا ھار کیسے مان سکتا تھا۔عمل سے ثابت کر کے ھرانے میں تو وقت لگتا ھے پر باتوں سے تو ھم فوراً چاروں شانے چت کر سکتے ھیں۔میں نے بھی اپنا جذباتی بھاشن شروع کردیا۔

ابے کیا حرام حلال ،جب بھوک اپنی ڈگڈگی بجاتی ھے نا تو ناچ آئے نا آئے اس کی انگلیوں ہر ناچنا پڑتا ھے۔معصوم بچہ فیڈر پیتے یہ نہیں دیکھتا اس فیڈر میں دودھ حلال کا ھے یا حرام کا ھے۔ اسکی ضرورت ھے جینا اور جینے کے لئے بھوک کو ھرانا پڑتا ھے ۔یہ سب امیروں کے چونچلے ھیں جو ھمارے پیروں میں حرام حلال کی بیڑیاں پہنا رکھی ھیں۔میرا آئڈیيل رابن ھڈ ھے میں بھی ھیروئن سے کماؤں گا اور آدھی رقم ضرورت مند لوگوں میں بانٹوں گا، تو باقی آدھی خو بخود حلال ھو جائے گی۔اس بھاشن کے بعد میرا تو خیال تھا میں نے فہیم کو باتوں سے زمین پر پٹخ دیا ھے ۔لیکن وہ میرے منہ کے پاس آیا اور بولا۔میرے دوست جس دودھ میں گندگی کی چھینٹ پڑ جائے وہ کبھی پاک نہیں ھوتا۔ھر انسان کی رب نے ڈیسٹنی بنائی ھے۔اور تمھاری بھی ھے۔تو کوشش کر دیکھ، نہیں کر پائے گا۔اور وہ چلا گیا۔

میرے پلانز اتنے کلئیر تھے کہ میں نے سوچا، فہیم کی بدھی ابھی میرے پلانز کی اونچائی نہیں پکڑ پائے گی۔میں نے تحقیق شروع کر دی کہ ھیروئن کہاں سے ملے گی ۔کہاں بکے گی۔مجھے جلد ھیروئن کے خریدار مل گئے۔بس اب ان کو لا کر ڈلیور کرنی تھی ۔بس پھر میں مالا مال۔جلد ھی مجھے پشاور سے آگے اس وقت کے علاقہ غیر میں ایک بندے کا پتہ مل گیا جو ھیروئن کا ھول سیل ڈیلر تھا۔ اور میں علاقہ غیر پہنچ گیا۔اس شخص نے مجھے بتایا۔یہ ھیروئن بنانے کا فارمولا جرمن ھے۔ لیکن اسکی فیکٹریاں علاقہ غیر میں اس لئے لگیں کیونکہ اسکا خام مال افغانستان اور پاکستان کے بارڈرز پر موجود ھے ۔

قبائلی سسٹم نے اس کی سیل کا ایک طریقہ کار وضع کر لیا ھے۔جو فیکٹری کا مالک ھے وہ صرف پروڈکشن کرے گا۔اور ھول سیل ایک اور قبیلہ بیچے گا اور پرچون کوئی اور قبیلہ ۔اس میں کوئی کسی کی حدود پار نہیں کر سکتا۔اتنی دیر میں اس نے یہ سب بتاتے ھوئے چرس کا ایک سگریٹ بنا لیا، اور آفر کیا۔ یہ لو پئو۔میں نے گھبرا کر کہا ۔نہیں۔وہ فخر سے بولا یہ وہ چرس نہیں جو تمھارے اُدھر ملتا ھے وہ سب تو گدھے کا لِد ھے۔اس میں بہت ملاوٹ ھوتا ھے۔اتنے میں ازان کی آواز آئی وہ سگریٹ رکھ کر اٹھا اور نماز پڑھنے لگا۔نماز سے فارغ ھو کر اس نے چرس سے بھرا سگریٹ سلگا لیا۔میں نے فورا پوچھا یہ کیا؟ ایک طرف نماز اور ایک طرف نشہ۔وہ مسکرا کر بولا نماز ھمارا اللہ کا معاملہ ھے جس کا ثواب ھمیں مرنے کے بعد ملے گا اور نشہ ھمارا آج کا ثواب ھے۔وہ زور سے ھنسا، اور اسے بھی لگا اس نے اپنی بات سے مجھے چاروں شانے چت کر دیا ھے۔ بہر حال یہ طے پایا کہ میں وائٹ شوگر(ھیروئن) کی بجائے براؤن شوگر لے لوںـ کیونکہ وائٹ کافی مہنگی ھے اور اسے گورے لوگ پیتے ھیں۔

جبکہ براؤن ھمارے ھاں کے لوگ زیادہ پیتے ھیں۔اگر میں براؤن شوگر(ھیروئن) ھزار گرام لیتا ھوں تو وہ اصلی مجھے سات سوگرام دے گا ور باقی تین سو گرام اس میں کیمیکل مکس کر دے گا اور اس ملاوٹ کا مجھے فائدہ ھوگا۔جب دھندہ ھی گندا کرنے جا رھا تھا تو میں نے بھی سوچا نوٹ بناتے ھوئے خالص کاکیا سوچنا۔لوگ تو حلال کے کاروبار میں ملاوٹ سے نہیں ڈرتے۔ علاقہ غیر سے پشاور تک دو ناکے تھے۔ اس کو پار کروانے کے لئے میرے ساتھ ایک سکول کا بچہ بھیجا گیا ۔جس کی کتاب کے خانے میں وہ پیکٹ تھا۔وہ پیکٹ پشاور بس سٹینڈ کے بیت الخلاء میں میرے حوالے کیا گیا۔میں نے اسے اپنے انڈروئر کے اندر چھپا لیا۔مجھے بتایا گیا تھا پشاور سے ڈائریکٹ بس نا پکڑنا اس کی چیکنگ زیادہ ھوتی ھے۔

میں دو تین بسیں بدل کر آخر کر پہنچ گیا۔پتہ نہیں کیوں اتنا سفر کرنے کے بعد جب اپنے گھر جانے کے لئے تانگے پر بیٹھا تو کچھ پولیس والے پاس سے گزرے اور میری ٹانگیں کانپنا شروع ھو گئیں۔ میں نے یہ سوچ کر خود کو قائل کیا ،شاید یہ گھر والوں کی سکھائی اخلاقیات کا گلٹ ھے جو ڈرا رھا ھے۔یوں اس دلیل سے خود کو چاروں شانے چت کر لیا۔ اورھزار گرام ھیروئن کا پیکٹ پوری کامیابی سے لے کر بڑے فخر سے اپنے گھر پہنچ گیا۔دوستو خواب پورے ھونے سے زیادہ خواب پورے ھوتے نظر آنے کا مزہ زیادہ ھوتا ھے۔یہ اُس دن مجھے سمجھ آیا۔میں نے اگلے دن سے اس بندے کو ڈھونڈنا شروع کیا جس نے خریدنے کا وعدہ کیا تھا ۔کافی دنوں بعد پتہ چلا اسے تو پولیس نے اٹھا لیا ھے۔پھر شروع ھوا ایک تھکا دینے والا سفر میرے پاس مال تھا لیکن مجھے اسکا خریدار نہیں مل رھا تھا۔کوئی ملا تو وہ میری بے بسی کا فائدہ اٹھا کر اس کے دام کم دے رھا تھا۔میں نے مہینہ بھر دھکے کھائے آخر کار مجھے سمجھ آ گئی میری ڈیسٹنی میرے آڑے آ رھی ھے۔

میں نے ھیروئن کے اس پیکٹ کو نالی میں بہا دیا۔فہیم تو اس روز میری شکل دیکھ کر بہت ھنسا۔غلط کام کی ناکامی کی سب سے زیادہ خوشی بھی سگے دوست کو ھوتی ھے ۔اُس روز میں چھت پر لیٹا آسمان کی طرف دیکھ کر سوال پر سوال کرتا رھا ۔ایسا کیوں اللہ ؟ میرے حصے کا رزق اتنا کم کیوں؟ مجھے اس دور میں کیوں ہیدا کیا؟ایک غریب گھر میں کیوں کیوں؟صبح میں جب اٹھا تو میرے ناشتے میں دو پراٹھے تھے۔میں نے خود کو مار کر دیکھا کہیں خواب تو نہیں؟ماں سے پوچھا۔ اماں آج اتنا احسان کیوں؟وہ مسکرا کر بولیں ۔مجھے لگتا ھے اب وہ وقت آ گیا ھے جب تمھیں دوسرا پراٹھا حاصل کرنے کی ویلیو کا پتہ چل گیاھے۔فہیم نے مجھے سب بتا دیا تھا ۔لیکن میں چاھتی تھی کہ ھیروئن کو نالی میں بہانے کا فیصلہ تم خود لو۔بیٹا کم کھانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ھے، اس کم کھانے کے خوف میں غلط فیصلے لینا سب سے بڑا مسئلہ ھے۔اُس دن مجھے یہ ادراک ھواـ اگر پیغام انڈائریکٹ پہنچے تو اسکا اثر زیادہ ھوتا ھے۔

دوسرا زندگی کے فیصلے کسی خوف کے نتیجے میں نہیں لینے چاھئیں چاھے وہ خوف موت کا ھی کیوں نا ھو۔آج کرونا کی وجہ سے غربت بڑھنے کا خوف لوگوں میں اسلحہ خریدنے کا رحجان بڑھا رھا ۔زرا سوچئے دنیا کی معیشیت آج کس غربت سے نکل کر اس نہج تک پہنچی ھےـ یہ سٹاک ایکسچینج کے چونچلے کب انٹرڈیوس ھوئے۔ زندگی تب بھی تھی۔ زندگی اب بھی رھے گی۔
دوستو یہ سارا خیال اس لئے آیا آج ھی میں نے ایک نئی ویڈیو گیم شروع کی ھے۔اس کی پہلی سٹیج کو پار کرنا مشکل ھو رھا ھے۔ تو میں نےسوچا ایک ویڈیو گیم اتنی مشکل ھے تو پھر زندگی کو اتنا آسان کرنے کی کیا ضرورت ھے؟ اللہ کی ویڈیو گیم کے کریکٹر بن کر چلتے رھو۔ جیسا پلے کرے ویسا پلے ھو جاؤ۔ اگلے پڑاؤ میں پہنچ ھی جاؤ گے۔

امین اقبال

Please follow and like us:

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page