AMIN IQBAL BLOGS

Amin Iqbal Thematic Blog Series Chapter 2- سیکس

سیکس ایک ایسا موضوع ھے۔جس کو ڈسکس کرنے کی ھمارے معاشرے میں ایک نا نظر آنے والی ،پا بندی موجود ھے۔ھم میں سے بہت سو کو یہ غلط فہمی ھے ,چونکہ ھم ایک اسلامی معاشرہ ھیں۔اس لئیے یہ موضوع ڈسکشن کے لئیے قابلِ اعتراض ھے۔لیکن میری رائے میں یہ ھمارے برصغیر کی معاشرت کا مسئلہ ھے۔قدیم ھندومت میں اس موضوع پر کچھ کتابیں موجود ھیں۔ان کتابوں میں انسانوں کو چھ کٹیگریز میں تقسیم بتایا گیا ھے۔ھندو ریسرچ کے مطابق چھ قسم کے مرد ھوتے ھیں اور چھ قسم کی عورتیں ھوتی ھیں۔اور کس طرح کی عورتوں کے لئیے کس طرح کے مرد چاھئیے ھوتے ھیں ۔ان کتب میں اس کی تفصیل بھی درج ھے۔لیکن اس کے باوجود بھی ھندو معاشرے میں سیکس کا موضوع قابلِ اعتراض ھی رھا ھے۔جیسے ھم نے پچھلے بلاگ میں ڈسکس کیا انسان کی پہلی ضرورت بھوک مٹانا ھے۔تو جیسے ھی خوراک ھمارے جسم کو توانا کرتی ھے ۔قدرت ھمیں ایک دن احتلام سے روشناس کرواتی ھے۔

یہ ھمارے بالغ ھونے کی نشانی ھے۔اس کا مطلب قدرت نے ھمارے حوالے ایک طا قت کی ھے۔وہ طاقت ھے انسان کی نسل کو آگے بڑھانے کی طاقت،لیکن ھم اپنی کم علمی کی وجہ سے اس لمحے کنفیوژ ھو جاتے ھیں۔چونکہ ھمارے دماغ میں احتلام کے بعد اس بارے تجسس بھی بہت ھوتا ھے۔اس لئیے انجانے سوال جنم لیتے ھیں ۔اس وقت ان سوالوں کا سب سے اچھا جواب ھمیں ھمارے ماں باپ سے مل سکتا ھے۔لیکن ماں باپ بچوں سے اس موضوع پر بات کرتے ھوئے ڈرتے ھیں۔ان کو ڈر ھوتا ھے کہ اس طرح ھمارے احترام میں کمی ھو جائے گی۔احترام بڑوں کا ایسا ٹول ھے ۔جس کے ذریعے یہ اپنے سے چھوٹوں کو تمام عمر اپنے تابع رکھ سکتے ھیں۔لیکن ھم یہ نہیں جانتے ھیں کہ احترام ایک ایسی پرستش ھے جو اپنوں میں بھی فاصلے پیدا کر دیتی ھے۔اس لئیے سیکس کی ضرورت پیدا ھوتے ھی اس کی معلومات پر ھمیں ایسے لوگوں پر بھروسہ کرنا ہڑتا ھے ۔جن کو ھم یا وہ ھمیں زیادہ نہیں جانتے۔اگر تو وہ ھم سے عمر میں بڑے ھے تو وہ خود سیکس کے کمپلیکس میں مبتلا ھو گا ۔وہ آپ سے ایسی گفتگو کرے گا جو اسکی انا کو بھی تسکین دے رھی ھو۔یعنی مردانگی ظاھر ھو رھی ھو۔اگر وہ آپکا ھم عمر ھے تو اس کا بھی اس بارے اتنا ھی علم ھے جتنا آپکا ھے۔یوں ھماری بنیاد غلط معلومات پر پڑ جاتی ھے۔لڑکیوں کے ذمہ تو فوراً کنوار پن کو سنبھالنے کی ایک بھاری زمہ داری لگا دی جاتی ھے۔

یہ ایک اخلاقی پہلو کے طور پر ڈسکس ھوتا ھے اسلئے لڑکیاں ایک انجانے دباؤ کا شکار رھتی ھیں ۔یوں ھم سیکس کی ایجوکیشن کے لئیےانٹر نیٹ کے جدید دور میں جاننے کا ذریعہ پورن فلمز میں ملتا ھے۔لیکن ھم اس وقت نہیں جانتے کہ پورن فلمز سیکس کی بھوک کو بڑھانے کا زریعہ ھے۔سیکس ایجوکیشن کا نہیں۔ جس طرح اگر آپ شدید بھوکے ھوں اور آپکا پسندیدہ سالن چولھے پر چڑھا ھو اور اسکی مہک بھی آپکی ناک تک پہنچ رھی ھو۔تو آ پکے پیٹ میں چوھے دوڑنے لگتے ھیں۔یہی حال پورن فلمز آپکے ساتھ کرتی ھیں۔ان فلمز کا سب سے بڑا نقصان یہ ھوتا ھے کہ آپکے اندر تشدد کا عنصر پیدا ھونے لگتا ھے۔جیسے ھم کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھتے ھیں تو اسکے اثرات ھمارے اوپر ھوتے ھیں اسی طرح پورن فلمز کو انسان کے جبلی حیوانی طرز عمل کی ضرورت کو سوچ کر بنایا جاتا ھے۔انسانی تاریخ ھمیں بتاتی ھے انسان نے حیوانی طرز عمل کو چھوڑ کر ”تہذیب” کے سفر میں صدیاں صَرف کی ھیں۔لیکن آج بھی یہ عمل ھماری جبلت میں موجود ھے۔اسی لئیے اگر آپ غور کریں تو ھر معاشرہ اور مذہب انسان کی انہی دو ضرورتوں(بھوک ،سیکس) پر اخلاقی کنٹرول کے لئیے قانون بناتا ھے۔اس لئیے جب سیکس ایجوکیشن کے لئیے پورن فلمز کا رخ کرتے ھیں تو ھماری سیکس کی ضرورت کو اشتہا ملتی ھے۔ھم اس کو مٹانے کے لئیے چوری کا راستہ اپناتے ھیں۔بھوک مٹانے کے لئیے صرف انفرادی کوشش چاھئے ھوتی ھے لیکن سیکس کی ضرورت کے لئے ھمیں ایک اپوسیٹ جنسکی ضروت ھوتی ھے ۔

اس لئے سیکس کی چوری کے بعد ھم خوشی کی بجائے احساسِ گناہ محسوس کرتے ھیں۔اگر ھماری پہنچ دوسرے ساتھی تک نا ھو یا ھم ڈرپوک اتنے ھوں کہ اگر کسی نے دیکھ لیا ؟یا پکڑے گئیے تو لوگ کیا کہیں گیں؟ ایسے میں ھم خود لذتی کرنے لگتے ھیں۔اور مشت زنی کے بارے میں بھی طرح طرح کے ابہام موجود ھے۔اس عمل سے روکنے کے لئیے مردوں کو خاص طور پر گناہ کی بجائے نا مرد یا بیمار ھو جانے کے خوف سے ڈرایا جاتا ھے۔ اس لئیے اس عمل کے بعد بھی آپکے حصے خوشی نہیں آتی بلکہ اضطراب آتی ھے۔انسان کی آنکھ ایک کیمرے کی طرح ھے جو ھر دیکھی چیز کی تصویر یا ویڈیو بنا تی ھے۔یہی ھمارا تصور یا یاداشت بنتی ھے۔ انسان جب بھی اُس جیسا عمل کرتا ھے تو دیکھا ھوا عمل دماغ، تصور کے طور اس کے سامنے رکھتا ھے۔یوں انسان اسی چیز کو ایک معیار سمجھ کر اس پر پورا اترنے کے عمل میں لگ جاتا ھے۔یہی وجہ ھے کہ ھماری یادداشت میں پورن فلم کے ذریعے جو تصور بیٹھا ھوتا ھے اسے میچ کرنے کی کوشش میں کئی مسائل کا شکار ھوتے ھیں۔

اس مسائل کو حل کے لئیے نام نہاد حکیموں کی دکانیں کھل چکی ھیں۔جو انسان کو حل دینے کی بجائے اس کے کمپلیکس کو اور گمبھیر کرتی ھیں۔اس لئیے آج دنیا کی بڑی انڈسٹری پورن ھے اور مقبول ادوایات میں ویاگرا ھے۔آج کسی بھی نئے شادی شدہ جوڑے سے ہوچھیں تو انکا جواب ھو گا سہاگ رات کی اضطراب نے تباہ کر کے رکھ دیا۔اس اضطراب کا توڑ مصنوعی طریقے سے کیا جاتا ھے ۔جس سے مسائل اور بڑھ جاتے ھیں۔اگر ھم یہ کوشش کریں کہ جس عمر میں سیکس سےمتعلق سوال ابھریں اسی وقت اس پر ایجوکیٹ کیا جائے۔یہ ایجوکیشن جہاں انسان کے اندر رومانس اور گداز پیدا کرے گا ۔وہیں یہ عمل ضرورت کے لئیے رہ جائیے گاسیکس کی بنیاد دو بنیادی نکتوں پر ھے ۔ایک اشتہا اور دوسرا انزال۔اشتہا کے لئیے لمس کی بہت اھمیت ھے۔جس پر ھم کبھی دھیان نہیں دیتے۔انسان جب ھاتھ ملاتا ھے تو بن کہے ایک لہر دونوں تک پہنچتی ھے۔جس سے ایک دوسرے کے بارے ایک تاثر بھی قائم ھوتا ھے۔لیکن جب ایک مرد اور عورت ایک دوسرے کو چھوتے ھیں تو یہ لمس ھی بتاتا ھے کہ دونوں اس سے آگے بڑھ سکتے ھیں یا نہیں۔

یہ 2006 کی بات ھے جب مجھے ایک ریسرچ ٹیم کا حصہ بننے کا موقع ملا۔جو جنوبی پنجاب میں کی جا رھی تھی ۔اس میں جاننا تھا ۔کہ کیا وجہ ھے جنوبی پنجاب میں خواتین شیزوفرینیا ایک نفسیاتی بیماری کا شکار ھو رھی ھیں؟ اور ساتھ ھی غیرت کے نام پر ماری جا رھی ھیں؟اس ٹیم میں بہت سارے سائیکٹریسٹ بھی تھے۔اس ریسرچ سے پتہ چلا کہ یہاں کے مرد اپنی خواہش پوری ھوتے ھی۔کروٹ بدل کر سو جاتے ھیں اور عورت سالوں اس کمی کا شکار ھو کر شیزوفرینیا کا شکار ھوتی جاتی ھیں ۔ان پر جن آ گیا جیسا فرسودہ الزام لگا کر نام نہاد بابوں کے پاس لے جاتے ھیں۔جو اپنے گندے عزائم ان خواتین کی دبی خواہشوں کا استحصال کر کے پورا کرتے ھیں۔یہیں پر پتہ چلا کہ شادی کے بعد جوڑے لمس کی وجہ سے کمفرٹیبل نہیں ھوتے اور مرد اس غلط فہمی کا شکار ھو کر کہ وہ اسے پسند نہیں کرتی۔ اسے غیرت کے نام پر عورت کا قتل کر دیا جاتا ھے۔

میرا ماننا ھے انسان اپنی اس ضرورت کے لئیے نفسیاتی مسائل کا شکار قطعی طور پر نا ھو۔اگر ھم اس بارے معلومات رکھیں ۔آج ھم دیکھتے ھیں بچوں اور عورتوں سے زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ھو رھا ھے۔ اگر آپکی گاڑی کا انجن خراب ھو اور آپ اسکے اندر تیل ڈالتے رھیں تو وہ نہیں چلے گی۔اسی طرح اگر سیکس کے اخلاقی برتاؤ پر لاکھوں قوانین بھی ھوں تو انکا کوئی فائدہ نہیں ۔جب تک ھم اس ضرورت کی وجوھات پر روشنی نہیں ڈالتے۔مجھے یوں محسوس ھوتا ھے کہ انسان کی چاھے بنیادی ضروت بھوک ھے یا سیکس، اگر انسان اس کی لذت کا اسیر نا ھو اور اسے اپنی ضرورت سمجھے تو ھم کسی نفسیاتی خرابی کا سبب نہیں بنیں گیں، لیکن اگر ھم اپنے اندرونی جذبات کو بھلانے کا سہارا بھی اسی لذت میں ڈھونڈیں گیں تو اسکا کنٹرول ھمارے ھاتھ سے نکل جائے گا۔کیوں کہ قدرت نے ھمارے مزاج میںلت کا ایسا عنصر رکھا ھے کہ آپ جس عمل کو زندگی میں زیادہ اپنائیں گیں آپ اسکے عادی ھوتے جائیں گیں ۔کہتے ھیں کہ انسان انیس دن جس عمل کو روز کر لے اسے بدلنا انسان کے لئے مشکل ھو جاتا ھے۔ھمیں چاھئیے کہ ھم سیکس کی ضرورت کے بارے مییں صحیح معلومات رکھیں اور شئیر کریں تا کہ یہ معاشرے میں بیماری نا بنے۔اس بلاگ کے اختتام پر ذرا سوچئیے ھمارے ھاں کتنے انسان اس نفسیاتی روز گھروں سے نکلتے ھیں اور غلط نفسیاتی دباؤ میں معاشرے کے کام کرتے ھیں۔پھر بھی ھم سوال کرتے ھیں ھمارا معاشرہ آگے نہیں بڑھ رھا اور مضبوط اعصاب کے لوگ پیدا نہیں ھو پا رھے؟ ھماری ضرورتوں کی جب تک نفسیاتی تربیت درست نہیں ھو گی اس وقت تک ھماری شخصیت بھی نکھر نہیں سکتی۔ھمارا اگلا بلاگ انسان کی تیسری ضرورت “محبت” پر ھو گا۔

Please follow and like us:
error2350

6 Comments

  • syed ali shah

    respected sir jb Waldain bachom ko paiday hoty sath e Mobile or Technology hath main thama dainge to pher bacha wohi dekhega jo technology usko dekhaigee. bat tarbiat ki bi hai. .Humain bachon Ko Quran e kareem Parhnay or us par amal krnay ki taleem denu chahye jisme usky liye har chez ka ilam hy. . pehly zamaana main waldain Bachon ka baligh hoty e shadi kardty thay or ab Dekh lain. .mashra apni Wapsi Ki taraf lout rha hy or Bus Kayamat ki ghariyan kareeb. . Nikah aik aisa Behtreen amal hy jo humain is ghady sy nikal skta hy. .ap k har sawal ka jawab main deny k liye tayyar hn..

  • Danish

    Behtreen Blog Sir … Humesha Ki Tarha Sub Se Alag Or Behtreen Blog Likha Gaya Hai , Humari Society Main Hone Waly Aisy Hazaaron Issues Hain Jin Per Hum Baat B Nai Kar Sakty , Just Because Of Lack Of Education And Awareness … Thanks For This Blog Sir And Waiting For Next Blog About LOVE – Keep Writing And Keep Inspiring US – Thumbs Up !!!
    Follower : Danish

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
You cannot copy content of this page