AMIN IQBAL BLOGS

آؤ مر جاتے ھیں

جب اُنہوں نے مجھے کہا کہ آؤ اب مر جاتے ھیں۔مجھے یقینًا ایک دَھچکہ لگا۔کیونکہ موت کے لئے پیاری زندگی کون چھوڑتا ھے۔جبکہ آپ کے ذھن میں یہ سوچ بھی ھو کہ، میں نے ابھی دیکھا ھی کیا ھے؟

یہ اُن دِنوں کی بات ھے جب اسلام آباد ابھی سیمنٹ کے پُلوں کے نیچے دبا نہیں تھا۔قُدرت کی خُوبصورتی کو ڈُھونڈنا نہیں پڑتا تھا۔ فیض آباد سے ھی فیصل مسجد نظر آ جاتی تھی۔سیمنٹڈ شہر کی سب سے بڑی خرابی یہ ھوتی ھے کہ وہ موسموں کے بدلتے رنگوں کو کھا جاتا ھے۔شہر کے مکین ایک ھی موسم جيئے جاتے ھیں۔دوستو اَندر کا موسم بَدلے اور باھر کوئی موسم ھی نا ھو،تو اندر کے موسم بھی مَر جاتے ھیں۔ھم اور کائنات بہت لازم و مَلزُوم ھیں۔

میرے ایک دوست جِن کو میرے مطالعہ کی عادت کا عِلم تھا مُجھے بتانے لگے کہ ایک صاحب اپنی پوری لائبریری فری میں بانٹ رھے ھیں۔کتابیں چاھئیں تو پہنچو،میں فوراً پہنچا اور اُس دن مجھے ملے معین صاحب ،اُنکی عُمر لگ بھگ نوے سے اوپر ھی ھو گی لیکن ڈسپلنڈ لائف سٹائل نے ،اُن کی لُکس میں سے بِیس سال مِنہا کر رکھے تھے۔اُنہوں نے اپنے ڈرائنگ روم میں اپنی کتابوں کا ڈھیر لگا رکھا تھا اور خُود ایک کونے میں راکنگ چئیر پر بَراجمان کِتابوں کو ایسے گُھورے جا رھے تھے جیسے میت کا آخری دیدار کرتے ھیں۔میں نے اِتنی سَاری اَنمول کتابیں دیکھیں تو فورا اَپنے مُنہ کے پانی کو چھپاکر پوچھا ،میں کِتنی کِتابیں لے سکتا ھوں؟وہ بڑی نرمی سے بولے۔چاھو تو تمام لے جاؤ۔میں نے معصومیت سے کہا ،اِتنی زیادہ کِتابوں کو میں رکھوں گا کہاں؟وہ پِھر نرمی سے بولے۔اَپنے اندر، یہ بس باھر ھی جگہ گھیرتی ھیں۔جب ایک بار اَندر اُتر جاتی ھیں، تو پِھر اِنسان انفارمیشن میں گِھرجاتا ھے۔میں نے پوچھا ۔مُعین سر یہ اِتنا نایاب خزانہ ھے ۔آپ نے بہت محنت سے اکٹھا کیا ھو گا،مفت میں کیوں بانٹ رھے ھیں؟وہ بولے۔اکٹھا کرتے ھوئے پتہ نہیں تھا کہ آگہی سے بَڑا عذاب کوئی نہیں ھوتا؛
دوستو جَب اِنسان کے پاس عِلم کَم ھو تو وہ بحث زیادہ کرتا ھے ،اور میں نے بھی شروع کر دی۔مُعین صاحب آپ نےتو بڑی غلط بات کی، بَندے کے پاس آگہی آ جائے تو اِس سے بڑی شے کوئی اور کیا ھو سکتی ھے؟

معین صاحب بولے۔آگہی ھو تو کچھ ساتھی بھی تو ھوں۔انسان اکیلا ھو جاتا ھے یار،اُسدن میں نے بُہت بحث کی اور اِس کا نتیجہ یہ نِکلا، اُنہیں ایک آگہی سے خالی لیکن آگہی کا مُتلاشی انسان مل گیا ۔اور مجھےپڑھنے کی جھنجھٹ سے چھٹکارا،وہ کتابیں تو اُنکے حافظے میں محفوظ تھیں ۔جس کا تردد مجھے کرنا تھا، جب دو انسانوں کو ایک دوسرے سے ایسی مدد مل رھی ھو تواِس سے بہتر رشتہ کوئی اور نہیں ھوتا۔اس لئے انھوں نے مجھے اپنا دوست بنا لیا۔

مُعین صاحب دوسری جنگ عظیم میں پائلٹ رہ چکے تھے۔وہ طبعًا ایک خُوش مزاج اور مَن موجی اِنسان تھے۔ انہوں نے مجھے اپنی اِبتدائی زندگی کے بارے بتایا کہ جب وہ اَپنی جَاب سے اُکتا گئے تو ایک انگریز آفیسر کے اُوپر پیشاب کر دیا ـجِس کی انہیں کافی سزا دے کر فوج سے نکال دیاگیا ۔پارٹیشن کے بعد پاکستان آ گئے۔اُنکے دو بیٹے یونائٹیڈ نیشن میں جاب کرتے تھے جبکہ بیٹی پاکستان فَارن آفس میں تھیں ،بیوی اللہ کو بیس سال پہلے پیاری ھو چکی تھیں۔ اب وہ تَنہا اپنے دو منزلہ گھر میں اپنے ساتھ مقیم تھے۔

گَھر سے کِتابیں اور ٹی وی نکال کر میرے لئے جگہ بنا لی اَکثر میں اُن کی کہانیاں سننے اُن کے پاس چلا جاتا۔مجھے اُس وقت یہ بھی محسوس ھوتا تھا ، بڑوں میں بیٹھ کر انسان وہ طریقہ سِیکھ جاتا ھے ، جو دُوسروں کو ذھنی طور پر مات دینے کے کام آتا ھے۔جس طرح ھَم کتابیں اَپنی الماریوں میں بھَر کر دوسروں کو متاثر کرتے ھیں کہ” مجھے بڑا علم ھے”۔ چاھے اِن کتابوں کا اَثر آپ پر رَتّی بَھر نا ھوا ھو ۔خیر میں گاھے بگاھے اُنکے ھاں جاتا سوائے ویک اینڈ کے ،کیونکہ اُس دن اُنکی بیٹی آتی تھیں اور وہ ایک دن اُنکی تَنہائی بانٹنے کی کوشش کرتیں۔اُس دن سَردیوں کی شام تھی اور میں اپنی غَرض کا بنَڈل اُٹھائے دھڑا دھڑ ان پر سوال داغ رھا تھا۔اچانک وہ خاموش ھو گئے اور مُجھے گھورنے لگے۔کچھ توقف کے بعد بولے۔امین یار جِس دن میری باتیں ختم ھو جائیں گیں تو ،تم آگے بڑھ جاؤ گے؟میں نےشرمندگی سے گریبان میں جھانکتے ھوئے ایک کمزور اِنسان کی طرح جواب نہیں بن پایا، تو سوال کر دیا۔معین صاحب دنیا میں سب ایکدوسرے سے غرض کے ناطے رکھتے ھیں۔یہ تو کائنات کا اصول ھے کوئی کہیں مستقل نہیں ٹھرتا،دیکھئے نا اگر میں آپ کے عِلم کا مُحتاج ھوں تو آپ بھی تو میری کَمپنی کے ضرورت مند ھیں؟

معین صاحب کافی دیر مسکراتے رھے اور کافی کے سِپ لیتے رھے۔پھر بولے، یار جِسے ھم نے غرض بنا لیا ھے یہ ھماری جبِلّت ھے۔لیکن جب لالچ ذھن پر حاوی ھوتا ھے تو یہی جذبہ جو اِنسان نا چاھتے ھوئے بھی بَرتتا ھے ۔مَنفی ھو جاتا ھے۔اُس وقت تو میں نے ھاں میں سر ھلا دیا ،کہیں مجھے اِتنا کَم عقل نا سمجھ لیں کہ میں اُنکی دوستی کی لسٹ میں سے کٹ جاؤں۔لیکن اُس بات کی سمجھ عُمر کے اِس حِصے میں آئی ھے۔اِس کی تفصیل کسی اگلی تحریر میں شئیر کروں گا۔

دوستو اب آپ معین صاحب سے متعارف ھو چکے تو آگے بَڑھتے ھیں۔مُجھے معین صاحب کے ساتھ وقت بتاتے تین ماہ ھو چکے تھے ۔اب میں اُن کے پاس ایک عادت کی طرح جا رھا تھا۔میرا ابتدائی وہ جوش مدھم پڑ چُکا تھا جو بَچپن میں کھلوناملتے ھوئے ھوتا ھے۔اُن دنوں معین صاحب کے اصرار پر میں نےموبائل فون بھی لے لیا تھا۔اُسدن رات بھر کی بارش نے شہر کو دھو کر رکھ دیا تھا ،اب ایسے لگ رھا تھا شہر کو پانی نچوڑ کر خشک ھونے کے لئے گلابی آسمان کے نیچے رکھ دیا ھو ۔میں اُن لمحوں کو اپنی یاد میں ریکارڈ کرتے ھوئے، زِیرو پواينٹ سے آبپارہ جا رھا تھا کہ معین صاحب کا فون آیا۔

امین یار میں مرنے لگا ھوں۔تمہیں اِس لئے بتا رھا ھوں کہ وِیک اینڈ میں چار دن پڑے ھیں۔میری لاش کی بدبو کہیں اھل علاقہ کو پریشان نا کر دے۔تم کچھ دیر تک میری بیٹی کو اطلاع کر دینا۔میرے تو ھاتھ پاؤں پھول گئے میں نے آج تک موت کا تذکرہ اتنی آسانی سے کرتے ھوئے کِسی کو نہیں سُنا تھا۔میں تو موت سے اتنا ڈرتا تھا کہ کسی مُردے کو غسل تک نہیں دیا تھا۔لیکن میں نے خود کو سنبھالااور اُن کو باتوں میں لگا لیا۔اور کسی طرح قائل کر لیا کہ میں اُنکی طرف آ رھا ھوں جب تک مَرنا روک لیں۔میں ایک بار اُن سے مِل لوں تو بے شَک اَپنے فیصلے پر عمل کر لیں۔اُنہیں میری اِس ایموشنل دلیل نے شاید روک لیا۔ جب میں نے کہا، میری زندگی کی ایک ھی خواھش ھے کہ جو میرے اپنے ھیں ُان کو دُنیا سے جاتے ھوئے گُڈ بائے کہنے کا مجھے موقع ملے۔بہر حال میں چونکہ اُنکے گھر کے قریب بھی تھا تو میں پہنچ گیا ،اِسوقت تک وہ فون پر ھی تھے۔ میں نے اُنکے گھر کی گھنٹی بجا دی۔وہ باھر نکلے اُنکے چہرے پر اطمینان تھا ـ اندر اُنکی راکنگ چئیر کے سامنے سُوسائڈ نوٹ پڑا تھا ۔اُس پر لِکھا تھا۔

“زندگی بھی میرے لئے خوبصورت تھی اور موت کے بعد بھی خوبصورت زندگی کا متمنی ھوں۔میرے عمل کو میری خواھش سمجھ کر اپنی بَدگمانیوں سے معاف فرمائیے گا۔

آپ کی زندگیوں کا ایک ساتھی۔معین”
سامنے ایک پیالے میں زھر اور ساتھ ھی سیون اپ کی ایک بوتل پڑی تھی۔میں نے حیرت سے دیکھا انہوں نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر بٹھایا۔اور اپنی چئیر پر بیٹھتے ھوئے بولے۔میں نے سوچ سَمجھ کر فیصلہ لیا ھے۔میں نے کہا ،موت کا فیصلہ بھی کوئی سوچ سمجھ کر کرتا ھے یہ تو وہ کرتے ھیں جن کا دماغ ماؤف ھو جاتا ھے۔اُنہوں نے سوال کر دیا۔کبھی مَرسی کِلنگ کا سنا ھے؟میں نے اُس وقت تک نہیں سنا تھا۔وہ بتانے لگے۔امین جِس کی زندگی تکلیف دہ ھو جاتی ھے اُس کی آسانی کے لئےاُس کی اور اسکی فیملی کے مشورے سے موت دے دی جاتی ھے۔میں جھٹ سے بولا ،معین صاحب وہ تو انسان تکلیف میں ھوتا ھے آپ تو ابھی ھَٹّے کَٹّے ھو ۔آپ کو کیا تکلیف؟اب میں آپ کو اپنے سوال نکال کر وہ باتیں بتاتا ھوں جو اُس دن انہوں نے کہیں۔

یار امین زندگی ملتی ھے ۔مقصد ڈھونڈھ کر اُس پر عمل پیرا ھونے کے لئے،کچھ گولز آپ خود متعین کرتے ھیں جیسے فیملی بنانا ،کیرئر بنانا ،پھر اُنھیں حاصل کرنے کے لئے آپ اَپنی خواھشوں کے سمندر میں ایسے غوطہ زَن ھوتے ھو کہ توقعات پورے نا ھونے کا دکھ واپس نکلنے نہیں دیتا ۔ ایسے میں زندگی ملنے کا مقصد ھم بھُول جاتے ھیں۔اور جب آپ سب کر کے اس مقصد کو پانے کے قابل بنتے ھو، تو سوسائیٹی آپ کو بتاتی ھے۔بس بھیا ، اب تم عُمر رسیدہ ھو تم اب کسی استعمال کے نہیں رھے۔ تو پھر خالی جئيے جانے کا کیا مقصد؟میں بہت چھوٹا تھا ،یہ 1918 کی بات ھے جب ھمارے ھاں طاعون پھیلا،میرے ماں باپ مجھے چھپا کے رکھتے باھر نہیں نکلنے دیتے پہلی بار ھر روز کسی نا کسی کو اس وبا سے مرتے ھوئے سنتے۔ تو مجھے کھو دینے کا خوف ان کے اندر میرے لئے قربانی کا جذبہ ابھارتا۔وہ یہ بھول جاتے کہ وہ بھی تو اِس وبا کا شکار ھو سکتے ھیں۔میں نے موت کے خوف میں لوگوں کو ایکدوسرے کی مدد کرتے ھوئے دیکھا، مجھے موت کے لفظ سے پہلی بار متعارف ھونے کا موقع ملاـ مجھے یہ لفظ اچھا لگنے لگا،جس نے میرے اردگرد سے برائیاں ختم کر دیں اور سب اچھا بننے کی کوشش کرتے نظر آتے،پھر جب وہ وبا پانچ کروڑ انسان کھا گئی تو اُسے سکون آ گیا۔

امین یار وبا کا بھی تو پیٹ آخر کسی نا کسی نمبر پر بَھر ھی جاتا ھے۔یا پھر ھم بھی اُس کے ساتھ جِینا سیکھ لیتے ھیں۔خیر مجھے بچپن میں ھی ماں باپ کے رویے کی وجہ سے زندگی کی قدر ھو گئی۔پھر جب انہوں نے مجھے اِسلام سے روشناس کروایا تو میں زِندگی سے اور پیار کرنے لگا کیونکہ میرا رَب مُجھے زِندگی کو سنبھالنے کا حکم دیتا ھے۔پھر میں نے مقصد ڈھونڈھا۔ اور اُس مقصد کے پیچھے لگ گیا۔اُس مقصد کو حاصل کرنے کی راہ میں،پیار آیا رشتے آئے،بچے آئے ھر ایک کا مستقبل آیا۔امین یار عجیب بات یہ ھے کہ جس کا علم ھمیں ھو نہیں سکتا اُس کی فکر میں اپنی زندگی برباد کر لیتے ھیں۔سب سے نکل کر میں جب کسی قابل ھوا تو مجھے گھر بٹھا دیا گیا۔تم جانتے ھو یار زندگی کی بھی خوراک ھے اسکا پیٹ بھرتا ھے۔مقصدیت سے اگر اُسکے بغیر ھوں تو جینے کا فائدہ؟میں نے لُقمہ دیا۔سر پھر بھی خُودکشی حرام ھے۔
دیکھو امین مجھے ھمیشہ میرے رب نے ذھن کھلا رکھنے اور غور کرنے کے لئے کہا اور میرے دین کو اتنا آسان کیا کہ میں اگر کھڑے ھو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھ لوں، رب مُجھے ڈسپلن سکھانا چاھتا ھے کیونکہ ڈسپلن ھی آپ کو کہیں پہنچاتا ھے۔اب اگر سب حاصل کر کے تم نے بھی امین آخر کار میرے نتائج پر پہنچنا ھے، تو کیوں نا آؤ اب مر جائیں۔میں نے تمھیں وہ دکھا دیا جو تیرے ساتھ ھونے والا ھے۔ساتھ ھی انہوں نے وہ زھر والا پیا لہ میری طرف بڑھا دیا ۔ اور زھر شئیر کرنے کے لئے زور دینے لگے۔میرے تو ھاتھ پاؤں پُھول گئے۔

یہ سوچ کر کانوں سے دھواں نکلنے لگا کہ آج تو میں مَرا ھی مَرا،میں نے گَھبرا کر کہا ،سر ابھی تو میرے رشتے بھی نہیں بَنے۔میں کیوں مروں ؟اُنہوں نے خاموشی سے پیالہ منہ کو لگا یا ۔میں جلدی سے اُنکی طرف لپکا اُنہوں نے مجھے روکا اور کہا یار یہ زھر نہیں ھے یہ ایک قسم کی جیلی ھے۔پھر سیون اپ پینے لگے ،پھر مجھے دیکھ کر مسکرائے اور اپنا سُوسائڈ نوٹ پھاڑ ڈالا اور بولے۔کیسا رھا۔میری عجیب کیفیت تھی ایسا لگ رھا تھا کہ دماغ ھینگ ھونے والا ھے ۔معین سر یہ کیا تھا؟اُنہوں نے قہقہہ لگایا اور کہا ایک دھچکا۔تم نا روز روز آ کر یکسانیت کا شکار ھو گئے تھے۔جب ھارٹ لائن بھی سیدھی ھوتی ھے تو بجلی کے جھٹکے دینے پڑتے ھیں اور انسانی سوچ جب سیدھی ھو جاتی ھے اُسے موت دکھا کر جھٹکا دینا پڑتا ھےـ اُس کے سخت ھوتے احساس کو زرا نرم کرنا پڑتا ھے۔ جیسا مجھے میرے بچپن میں ھی طاعون کی وبا نے کیا۔امین یار ایسے وقت کے دو نتیجے نکلتے ھیں یا تو انسان کی بصیرت والی آنکھ کُھل جاتی ھے یا پھر وہ مزید توھم پَرست ھو جاتا ھے۔اب میں دیکھوں گا کہ اِس جَھٹکے نے تم پر کیا اثر کیا۔وہ مجھے باھر کے دروازے تک چھوڑنے کے لئیے آئے، اور جب میں موٹر سائیکل پر بیٹھا توانہوں نے میرا کندھے پر تھپکی دے کر کہا،اچھا دوست اب اپنے اپنے راستے جانے کا وقت آ گیا ھے۔اب ھم شاید پھر نا مل سکیںـ میں کل جنیوا جا رھا ھوں۔میری بیٹی کی وھاں پوسٹنگ ھو گئ ھے۔مجھے لگتا ھے شاید وھاں میں اپنا مقصد ڈُھونڈھ لوں۔میں نے غور سے دیکھا۔

کیا واقعی آج سے ھم ایکدوسرے کے لئے مر رھے ھیں۔میری آنکھیں بھیگ گئیں۔انہوں نے زور سے مجھے گلے لگایا اور کہا بہت یادگار وقت گذرا۔امین یار ھم جب کسی کو کُچھ سِکھاتے ھیں نا تو بہت کُچھ خود بھی سیکھتے ھیں۔خدا ھمیشہ تمھارے دکھوں کو کم رکھے۔
معین صاحب نے درست کہا تھا ۔ھم خواھشات کے سمندر میں ایسے غوطہ زَن ھوتے ھیں کہ زندگی کے سبق بھی وقت پڑنے پر یاد آتے ھیں۔

67 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page