AMIN IQBAL BLOGS

بریکنگ نیوز سے پہلے (پارٹ 2)

میرے لکھے ایک ڈرامے کا ڈائیلاگ تھا۔”یاد ھمیشہ پچھتاوہ دیتی ھے”اس جملے کو لکھنے کے چودہ سال بعد جب یادوں کو لکھنے بیٹھا ھوں تو احساس ھوا، ادوار کو یاد کریں تو خرابیاں کیونکر شروع ھوئیں ،یادیں اس کا عندیہ بھی دیتیں ھیں۔ جاوید چوھدری اکثر مجھ سے ڈرامہ لکھنے کے طریقہ کار کی ڈسکشن میں رھتے تھے۔میرا بھی یہ خیال تھا کہ جسطرح کا افسانوی رنگ انکے کالمز میں موجود ھوتا ھے اگر انکو ڈرامہ لکھنے کی تکنیک کا ادراک ھو جائے تو اچھے ڈرامہ نگار ثابت ھو سکتے ھیں۔

ان دنوں الفا براوو چارلی دکھایا جا رھا تھا اور وہ بہت مقبول تھا۔ھم نے فیصلہ لیا کہ ھمیں شعیب منصور صاحب کا ایک انٹرویو کرنا چاھيے۔جاوید نے اسکا ذمہ مجھ پر چھوڑ دیا۔ان دنوں مشہور یہی تھا کہ شعیب صاحب انٹرویو نہیں دیتے۔لیکن دو ایک بار ان سے فون پر گفتگو ھوئی تو وہ ایک نئے جریدے کو انٹرویو دینے کے ليے تیار ھو گئے۔ یہ میری زندگی کا پہلا انٹرویو تھا اور شاید شعیب منصور کی زندگی کا یہ آخری ھو گا۔مجھے نہیں یاد پڑتا اس انٹرویو کے بعد انکا کوئی اور انٹرویو منظر عام پر آیا ھو۔میں جب لاھور پہنچا تو یہاں کے خبریں اخبار نے میرے لاجیسٹکس کا انتظام کر رکھا تھا۔

میرا شعیب منصور صاحب کے ساتھ وقت تو ایک گھنٹے کا طے ھوا تھا۔ لیکن انکے ساتھ نشست کوئی تین گھنٹے سے زیادہ طویل رھی۔مجھے انکے ساتھ نشست سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جو بعد میں میرے ڈائریکٹر بننے کے کرير میں بہت کام آیا ۔ میں نے ان سے پوچھا ۔سر آپ نے ففٹی ففٹی سے لیکر الفا براوو چارلی تک نئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔اسکی کوئی خاص وجہ ھے؟شعیب صاحب خاص انداز میں مسکرائے۔جو لوگ ان سے ملیں ھیں تو انکو اندازہ ھو گا انکی مسکراھٹ بہت الگ ھے ۔اور جب کوئی بات انکو لبھاتی ھے تو انکی مسکراھٹ کا رنگ بھی خاص طرح کا ھو جاتا ھے جو مجھے سب سے الگ لگتا ھے۔

شعیب صاحب نے بتایا نئے ٹیلنٹ کے ساتھ کام کرتے مجھے ایسا لگتا ھے۔جیسے میں ایک کمھار ھوں اور نئے اداکار کی شکل میں مجھے یہ مٹی گندھی ھوئی پہلی بار ملی ھے۔ اب اس کو اپنے کرافٹ کے زریعے کسی بھی شکل میں ڑھالنا میرے لئے آسان ھوتا ھے۔جب کہ ایک معروف اداکار جو اپنی ایک شکل بنا چکا ھے اس کو دوبارہ ایک نئی شکل دینا مجھے تھوڑا مشکل لگتا ھے۔جاوید چوھدری کو جب یہ انٹرویو دیا تو انہوں نے بہت پسند کیا۔اور اس فیصلہ لے لیا ۔جب کہ میرا خیال تھا انٹرویو پر ابتدائیہ کی ضروت انٹرویو کا ایک ابتدائیہ وہ لکھیں گیں انہوں نے فوراً نہیں ھے۔

لیکن انہوں نے “بلبلہ” کے عنوان سے لکھا اور اتنا عمدہ لکھا کہ شعیب صاحب نے فون پر اسکی تعریف کی ۔مجھے لگتا ھے شعیب صاحب کی تعریف میں اس سے اچھی تحریر آج تک نہیں لکھی گئی۔میں نے بہت کوشش کی کہ اس تحریر کو ڈھونڈھ کر یہاں شئیر کروں لیکن وہ بدقسمتی سے مجھے ملی نہیں،اسی آ فس میں جاوید کی ملاقات ھارون رشید صاحب سے ھوئی اور جاوید نے جلد انکو اپنا بزرگ مان لیا اور ھارون صاحب نے بعد ازاں اپنی بزرگانہ شفقت دکھاتے ھوئے ان کی ملاقات پروفیسر احمد رفیق صاحب سے کروا دی۔جس نے انکی زندگی کو بدلنے میں کافی کردار ادا کیا۔انہی دنوں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئیے اور ھم نے طے کیا کہ ایک خیالی گفتگو لکھی جائے کہ جب ڈاکٹر قدیر چاغی پہنچے ھوں گیں تو دھماکوں سے پہلے کیا گفتگو ھوئی ھو گی؟ ھم نے اپنی امیجینیشن کو آزمائش میں ڈالا اور جاوید، ڈاکٹر قدیر بن گئے اور میں ثمرمبارک اور آپس میں ایک فرضی مکالمہ کیاـ جس کو ساتھ ساتھ ھم لکھتے بھی جا رھے تھے۔اور اس مکالمے کو بعد میں چھاپ دیا ۔

ھمارے میگزین کے اسی ایڈیشن میں اس مکالمے کے ساتھ ایک اور خبر ایسی چھپ گئی۔جو مقتدر حلقوں کے لئے پریشان کن تھیں۔جاوید کو اپنے دوستوں سے خبر ملی کہ اعجازالحق جو اس وقت سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر تھے ۔انہوں نے حکومت پاکستان کی ایماء پر چائنا سے گوادر بندر گاہ کی ڈیل کی ھے۔اس خبر کو ابھی مقتدر حلقے طشت از بام نہیں کرنا چاھتے تھے۔لیکن میگزیں میں اسکی تفصیلات کے ساتھ جب ڈاکٹر قدیر کا مکالمہ بھی چھپا تو ایک طوفان آ گیا۔مجھے الگ راستے میں روک کر کہیں لے جایا گیا اور انٹیروگیشن ھوئی۔کہ کسطرح ھمیں اس مکالمے کا پتہ چلا۔ اس کا اندازہ ھمیں جب ھوا کہ مکالمے کی ننانوے فیصد بات اس دن کی گفتگو سے میل کھا رھی تھی۔ اس انٹیروگیشن کی پریشانی کو لے کر جب جاوید کے پاس پہنچا تو وہ بھی پریشان تھا اُس سے بھی سوال جواب ھو چکے تھے اور میرے جواب چونکہ اس کے جواب سے میچ کر چکے تھے اس لئے ھم قسمت کے دھنی رھے۔

ان دنوں جاوید نے اپنے اوپر کام کا دباؤ بڑھا لیا تھا ۔چونکہ پیسے کی ضرورت بڑھنے کے ساتھ اسکو لت بھی بنانے پر اکسا رھی تھی۔ اس
لئے شاید انکے مزاج میں ایک تلخی آنا شروع ھو چکی تھی۔میگزین کو چھ ماہ ھو چکے تھے اور چار ماہ کی تنخواہ ابھی پینڈنگ تھی ۔ھمارے دباؤ پر اکثر وہ خوشنود علی خان سے الجھ جاتے۔آخر کار ایک دن جاوید کو کہا گیا کہ آپ پنڈی میں ایک پراپرٹی ڈیلر کے پاس چلے جاؤ اور وھاں سے جو پیسے ملیں ان میں سے اپنی سیلریز کاٹ کر باقی آفس میں جمع کروا دو۔

یہ جاوید کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔پراپرٹی ڈیلر سے ملاقات کے بعد جاوید کو ایسی ڈیل ملی کہ پھر اس نے مڑ کر نا دیکھا اور میری منزل تو کچھ اور تھی۔اس لئیے میں اپنے راستے ھو لیا اور وہ اپنے راستے۔ مجھے اسلام آباد میں آنے والے دنوں میں صحافت میں پیسوں کی ریل پیل ھونے کے آثار مل رھے تھے۔کچھ نامور صحافی اپنے جیب میں دو دو ٹیپ ریکارڈر رکھتے تھے ایک انکے آ فس کے لئے ھوتا تھااور دوسرا ٹیپ کہیں اور بیچنے کیلئے ھوتا تھا ۔

میں نے کڑھتے ھوئے ایک دن ایک اور بڑے صحافی کو اسکی شکایت کی تو انہوں نے مجھے نواب آف کالا باغ کا واقع سنایا۔انہوں نے بتایا کہ جب ذولفقار علی بھٹو نے شراب پر پابندی لگائی تو ان دنوں نواب آف کالا باغ علیل تھے اور ڈاکٹرز نے انکو طویل زمینی سفر کے لئیے منع کر رکھا تھا۔لیکن جیسے ھی یہ خبر ملی وہ کار میں بیٹھ کر بھٹو صاحب کے پاس پہنچے اور درخواست کی کہ ایسانا کریں ۔آج جو یہاں کے سفارت خانے آپکے لوگوں کو ھزاروں لاکھوں روپوں میں خریدتے ھیں کل کو ایک بوتل شراب پر خریدیں گیں۔اور آج یہی ھو رھا ھے۔
اُس بزرگ صحافی نے افسردگی سے مجھے دیکھا اور کہا،بھوک کا خوف آپ کو غلط سلط کروا کر پیسہ تو دلوا دیتا ھے۔ لیکن بیٹا خرابی اس دن شروع ھوتی ھے جسدن وہ دولت بنا نا آپکی لَت بن جاتی ھے۔اور بات ضروت سے کہیں آگے نکل جاتی ھےـپھر لوگ یہ دلیل دینا شروع ھو جاتے ھیں۔ امیر ھونا بھی سنت ھے۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس امارت کو پانے کے لئیے مارکیٹ میں پہلے اپنے مال کی خرابی بیچنی پڑتی ھے چرب زبانی نہیں :

انہی دنوں پاکستان میں اسلامی سربراھی کانفرنس ھونے جا رھی تھی۔اور مجھے بہت اشتیاق تھا کہ میں جانوں کہ یہ فورم کیوں نہیں آج تک فعال ھو پایا۔میں اپنے آرٹیکل کے لئلے مواد جمع کر رھا تھا کہ پئ ٹی وی کرنٹ افئرز کے سنئر پروڈیوسر نے بلایا اور کہا ،کہ مجھے او آئی سی پر ایک انٹروڈکٹری ڈاکومنٹری کرنی ھے مجھے سکرپٹ لکھ دیں۔اندھے کو کیا چاھيے تھا دو آنکھیں، اسطرح انفارمیشن اکٹھی کرنے کے لئے میرا وزرات خارجہ سے رابطہ ھوا۔اور جو باتیں سامنے آئیں وہ کافی دلچسپ تھیں۔پتہ یہ چلا 1971 کے سمٹ میں فیصلہ ھوا تھا کہ اسلامی ممالک کا اپنا ریڈیو اور ٹی وی چینل ھو گا ۔اور کچھ سالوں میں اسکا سامان لے لیا گیا۔ جو آج بھی جدہ کی ایک بلڈنگ میں پڑا گل سڑ رھا ھے ۔

لیکن سامراجی طاقتوں کے وجہ سے ھمارا اسلامی بلاک اس خواب کو قابل عمل نہیں بنا پایا ۔اور آج اس بات کا پتہ چلنے کے تئیس سال بعد بھی وہ خواب ادھورا ھے۔پچھلے دنوں اس خواب کو پرائم منسٹر عمران خان نے زندہ کرنے کی جو کوشش کی اس کوشش کا کیا حشر کیا گیا وہ آپ سب کے سامنے ھے۔بہر حال وہ ڈاکومنٹری لکھنے کے ساتھ میں نے ایک آرٹیکل بھی نکالا ۔جو روزنامہ پاکستان کی رنگیں اشاعت پر چھپا اور بعد میں شنید یہی تھی کہ اُس ڈاکومنٹری کواتنا پسند کیا گیا کہ بعد میں کئی اور اسلامی سربراھی سمٹس میں اُن ممالک کی زبان میں ڈب کر کے پیش کیا گیا۔جس ملک میں سمٹ منعقد ھوا۔

صحافت کے دنوں کا ایک اور یاد گار واقع مجھے یاد آرھا ھے۔صحافتی حلقوں میں دو ایک دن سے باتیں گردش میں تھیں کہ سپریم کورٹ پر کچھ ھونے والا ھے اور پنجاب ھاؤس میں لوگ اکٹھے ھو رھے ھیں۔اس دن مجھے یاد ھے میں صرف اپنی چھٹی حس کی وجہ سے علی الصبح سپریم کورٹ پہنچ گیا۔اور میری آنکھوں کے سامنے لوگوں نے بہت معزز لوگوں کی معیت میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا ۔باھر ایک وقت میں اتنا شدید پتھراؤ ھوا میرے سمیت چند صحافی دوست ھلکے پھلکے زخمی ھوئے ۔ھم سب پل پل کی خبر اپنے اداروں کو دینا چاھتے تھے ۔اس لئے بھاگ کر فیکس مشین کے پاس جاتے جو کہ ان دنوں پی ٹی وی ھیڈ کوارٹر کی عمارت کے ساتھ بننے والے نئے پلازہ میں تھی۔اس پلازہ کے بارے مشھور تھا۔

اس کی ملکیت آصف علی زرداری صاحب کی ھے۔وہ پلازہ پاکستان میں مال بنانے کا ایک آغاز بھی ثابت ھوا۔سارا دن ھم سپریم کورٹ سے اس مشین تک دوڑتے رھے ۔شام کو ھم سب اس بات پر ھنس رھے تھے کہ خبر تو کل ھی چھپنی ھے۔ ھم شام کو آرام سے فائل کر لیتے اتنی آپا دھاپی کیوں کی؟آج سوچتا ھوں تو لگتا ھے کہ ھم سب کو اپنے مالکان کے سامنے ثابت کرنے کا جنون تھا۔اس لئے پل پل کی خبر فیکس ھو رھی تھی۔ اور شاید بعد میں اسی خواھش نے بریکنگ نیوز کو جنم دیا۔

اس رات مجھے ننیند نہیں آئی۔کیوں کہ ھم وہ تھے جنہوں نے ضیاالحق صاحب کے دور میں جمہوریت کے ليے ڈنڈے کھائے تھے۔اور جمہوریت میں سپریم کورٹ پر حملہ ھو اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ُ اس رات میں نے فیصلہ کیا کہ صحافت کو چھوڑ دوں گا ۔صحافت میں سچ کی وہ شکل آپکے سامنے ھوتی ھے جو نا آپ نگل سکتے ھو اور نا اگل سکتے ھو۔ تو پھر اس گلٹ کے ساتھ روز اپنی نیند حرام کرنے کا کیا فائدہ؟؟

ختم شدہ

137 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page