AMIN IQBAL BLOGS

بریکنگ نیوز سے پہلے (پارٹ ١)

میں نے جب بہت سارے دوستوں سے مشورہ لیا کہ میں کالم لکھنا چاھتا ھوں ـ میرا کالم کیسے موضوعات پر مبنی ھوناچاھئیے؟تو اکثر کی رائے ملی، کہ مجھے اپنی یادوں پر مبنی کالم لکھنے چاھئیں۔میں نے اکثریت سے اتفاق کرتے ھوئے اپنے ان دنوں کی یاد کو لکھنے کا فیصلہ کیا ۔جب میں صحافت میں داخل ھو رھا تھااور ابھی بریکنگ نیوز متعارف نہیں ھوئی تھی.

میں نیا نیا اسلام آباد داخل ھوا تھا۔کوشش اور جنون تھا کہ قلم کے ذریعے ھی رزق کمانا ھے۔چاھتا تو ڈرامے لکھنا تھا، لیکن کسی بھلے آدمی نے مشورہ دیا ۔زندگی کا پہیہ چلانے کے لئے ڈرامہ نگاری چھوڑ کر صحافت کے اندر ٹامک ٹوئیاں مار لو اور ساتھ ھی ایک صاحب سے بھی ملوا دیا ۔انکا نام اس وقت بھول رھا ھوں لیکن اتنا یاد ھے کہ وہ صلاح الدین صاحب مرحوم (تکبیر والے) کے رشتہ دار تھے ۔تکبیر کے بیورو چیف بھی تھے اور ساتھ ھی جگنو محسن صاحبہ کے اردو اخبار کے بھی بیورو چیف تھے۔انہوں نے مجھے بڑی شفقت سے رپورٹنگ کرنا سکھائی.

انھی کے ذریعے کشمیر کاز پر کام کرنے والےبہت سے اداروں سے میں روشناس ھوا ۔جو میری پی ٹی وی اسلام آباد میں گھسنے کی وجہ بنی۔جس کی تفصیل تھوڑا آگے چل کر بتاتا ھوں۔ان دنوں پیپلز پارٹی کی حکومت کو ان کے صدر فاروق لغاری نے ختم کر دیا تھا اور نگراں حکومت بن چکی تھی۔ایک دن صبح صبح ایوان صدر سے اند کی خبر ملی کہ عمران خان کو کچھ حلقوں میں جیتنے کی یقین دھانی کروائی گئی ھے۔اس کو کنفرم کرنا ضروری تھا۔اسی شام تحریک انصاف کی اھم رکن نسیم زھرہ (معروف صحافی) نے صحافیوں کو چائے پر بلا رکھا تھا۔نسیم زھرہ کے بارے یہ تاثر عام تھا کہ وہ اس بار تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اسلام آباد کی سیٹ سے الیکشن میں حصہ لے رھی ھیں۔نسیم زھرہ صاحبہ کی اس پریس کانفرنس میں، میں نے اپنے آئیڈیل ازم کے ھاتھوں مجبور ھو کر سوال داغ دیا یہ کیسے ممکن ھوا کہ ایوان صدر آپکو پہلے سے سیٹس کی گارنٹی کر رھا ھے؟سب اس سوال کو سن کر حیران ھوئے اور اس بات پر ایک بحث چھڑ گئی۔مجھے سوال کرنے کے ساتھ ھی اپنی بیوقوفی کا احساس ھو چکا تھا۔ایک تو ایسے سوالوں کا جب کوئی سورس نہیں بتاتا تو جواب کیوں کر کوئی دے.

دوسرا میں نے خود ھی ایک بریکنگ نیوز کو سب ساتھیوں میں بانٹ دیا تھا۔جب کہ ھمارا بطور رپورٹر پہلا سبق یہ تھا کہ پیشاب اور خبر کو کبھی روکنا نہیں چاھئے۔میں اسی شرمندگی سے باھر نکلا تو کچھ دور جانے کے بعد میرے پیچھے ایک شخص بھاگتا ھوا آیا۔ اور اس نے مجھے ایک لفافہ تھمایا جس میں دس ھزار روپے تھے اور کہا کہ مجھے اس خبر کو آگے نہیں بڑھا نا چاھئے۔ مجھے یہ یقین تھا اس شخص کا تعلق نسیم زھرہ آفس سے بلکل نہیں ھے۔میں نے جزباتی آییڈیل ازم کے شکار انسان کے طور وہ لفافہ اس کے منہ پر مارا اور خبر فائل کر دی۔جو کچھ دن کافی چرچہ میں رھی۔کچھ عرصے کے بعد میرے صحافی دوستوں کی تعداد بڑھی تو انہوں نے مجھے رپورٹنگ کی بجائے کالم لکھنے پر اکسایا۔میرے یہ دوست ان دنوں روزنامہ پاکستان میں کام کرتے تھے اور اس وقت حامد میر اس اخبار کے ایڈیٹر تھے۔میرے کچھ کالمز کو انکے سامنے پیش کیا گیا ۔جس پر انہوں نے ملا جلا تاثر دیا۔پھر میری ایک ملاقات حامد میر سے کروائی گئ۔ان سے ملکر میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ وہ کوئی عمران سیریز کے کردار ھیں۔جن میں بہت انرجی ھے اور اپنی زات کا تجسس بڑھانے میں انکی دلچسپی بدرجہ اتم پائی جاتی ھے.

اس کا اندازہ آپکو ان دو ایک واقعات سے ھو جائے گا۔ان دنوں بسرا نامی ایک ڈکیت کا نام بہت ھوا تھا انکی شہرت اس وقت دو چند ھوگئی جب انہوں نے نواز شریف کو چیلنج کیا کہ وہ ان تک پہنچ سکتا ھے اور وہ(بسرا) نواز شریف کی لاھور میں کھلی کچہری میں پہنچ گیا وہ ان سے (نواز شریف) گلے مل کر چلا گیا اور اس کا ثبوت جب تصویری شکل میں نوازشریف کو بھیجا گیا ۔تو سکیورٹی کے اداروں نے نواز شریف صاحب کو کھلی کچہری سے روک دیا۔ اور اس کی وجہ سے ملک میں بسرا،بسرا ھو گیا۔ایک دن کا واقع ھے کہ میں بھی اپنا کالم لے کر روزنامہ پاکستان کے آفس میں موجود تھا کہ اچانک بھگدڑ مچ گئی۔اور حامد میر اپنے آفس سے چلاتے ھويے نکلے کہ بسرا ابھی میرے آفس میں آیا تھا۔چونکہ یہ آفس میلوڈی میں سیکنڈ فلور پر تھا اس لئے لوگ نیچے بھاگے ۔ سیکنڈز میں بسرا غائب ھو چکا تھا۔لیکن آفس والوں نے کچھ سوال اٹھا دئیے۔ ممکن ھی نہیں میر صاحب سے کوئی بغیر تعارف ملاقات کر جائے؟دوسرا اگر اتنی دیر بسرا انکےساتھ تھا تو اس وقت کیوں نہیں انفارم کیا ؟ بہر حال کچھ دنوں بعد حامد میر صاحب کے نام سے بسرا سے ملاقات کا احوال روزنامہ پاکستان میں چھپا۔اسی طرح جب اسامہ بن لادن کے انٹرویو کا وقت آیا تو میرے علم میں تھا کہ میر صاحب کے ساتھ میرے کچھ دوست بھی جا رھے ھیں۔ان دوستوں سے میری سوالات کے حوالے سے بھی ڈسکشن ھوئی اور واپس آ کر اس ملاقات پر میں ایک کتاب لکھوں گا.

اس پر بھی وعدہ ھوا ۔لیکن حامد صاحب نے جس طرح سے واپس آ کر شو چرایا وہ آپ سب کے سامنے ھے ۔میرے وہ دوست ڈر کر پیچھے ھٹ گئے۔جب کہ میر صاحب نے بعد میں توجیح دی کہ انکی بعد میں بھی ایک الگ ملاقات اسامہ بن لادن سے ھوئی ھے۔ آج بھی جب حامد میر ھر بڑے انسان کے فوت ھونے کے بعد ان سے ھوئی ملاقاتوں میں مرحوم کے نام پر بڑی بڑی باتیں آشکار کرتے ھیں تو جانے کیوں مجھے بسرا یاد آ جاتا ھے۔روزنامہ پاکستان میں مجھے ایک ایسے دوست بھی ملے جن کی مختصر تحریروں کا میں مداح تھا۔انکا نام ھے
جاوید چوھدری۔جاوید ان دنوں ادبی ایڈیشن کے انچارج تھے ۔اور ھر ھفتے کےایڈیشن پر وہ دس لائنز کا ایک نوٹ لکھتے جو کہ بہت مقبول ھو رھا تھا۔جاوید چوھدری کے اس نوٹ پر حامد میر کو سخت اعتراض تھا.

دوست اسکی وجہ میر صاحب کا حسد بتاتے تھے۔یہ بات بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھی کہ ایک دن حامد میر نے جاوید کو نوکری سے نکال دیا۔جاوید ان دنوں 6500 تنخواہ لیتے تھے۔اور ایک بڑے خاندان کی زمہ داری ان پر تھی۔سب لوگ جو جاوید چوھدری کو بہت ٹیلنٹڈ سمجھتے تھے انہوں نے ملکر انکی مدد کرنےکی ٹھان لی۔میں بھی اس میں پیش پیش تھا۔جیسا کہ میں نے بتا یا تھا کہ مجھے کشمیری آرگنائزیشن تک رسائی اپنی پہلی جاب کے دنوں میں حاصل ھوئی تھی ۔اسی وجہ سے میری ایک ٹی وی کے پروڈیوسر سے ملاقات ھوئی جنہوں نے مجھے کشمیر کے اوپر پئ ٹی وی کا پروگرام لکھنے کو دیا ۔ انکا نام شاھد عمران گکھڑ ھے.

گکھڑ صاحب بہت ھی وضعدار اور نفیس انسان ھیں۔ جنہوں نے عاجزی کی آخری منزل کو چھو رکھا ھے۔اور صوفیانہ صفات سے بھر پور ھیں۔میں گکھڑ صاحب کے زریعے بھی کچھ کشمیر پر کام کرنے والی تنظیموں سے روشناس تھا۔انہی میں سے ایک تنظیم والوں سے میں نے جاوید کی ملاقات کروائی اور جاوید چوھدری کو انکی اھلیت کی وجہ سے نوکری مل گئی۔اس کے بعد تو جیسے جاوید کے لئے ھر طرف دروازے کھل گئے۔جاوید کو میں نے اکسایا کہ انکو اینکر بننا چاھئے۔جیسے ان دنوں طلعت حسین ایک پروگروام کے زریعے بہت مقبول ھو رھے تھے۔ جاوید نے اتفاق کیا اور میں جاوید کو پی ٹی وی لے گیا اور انکا آڈیشن دلوایا ۔جہاں انکا پنجابی تلفظ آڑے آ گیا۔میں نے اس بات کی گارنٹی لی کہ جلد اس پر قابو پا لیں گیں ۔اس طرح جاوید کو، جو پروگرام میں کشمیر پر لکھ رھا تھا ـاس کے کچھ سیگمنٹس کا میزبان بننے
کا موقع ملا لیکن انکا تلفظ انکو خود پریشان کر رھا تھا اور وہ پیچھے ھٹ گئے.

دوسری طرف روزنامہ پاکستان سے نکلنا انکے لئے اچھا شگون ثابت ھو رھا تھا۔جلد ھی خوشنود علی خان نےایک اردو میگزین شروع کیا اور اسکی ادارت جاوید کے حوالے کر دی اور جاوید نے مجھے بھی جان پہچان کی وجہ ڈپٹی ایڈیٹر بنا ڈالا ۔میرے ایک اور جگری دوست اس میگزین کو ڈیزائن کرتے تھے۔ایک طرح سے جاوید اور میرے وہ دوست ھی اس میگزین کو چلا رھے تھے ۔جس کا نام “اور” تھاـایک دن مجھے پتہ چلا کہ جاوید مجھے اپنے ساتھ اس لئے لٹکا رھے ھیں کہ وہ ڈرامہ لکھنے کی تکنیک جاننا چاھتےھیں۔اس کے لئے وہ منو بھائی تک سے راھنمائی کی کوششیں کر چکے ھیں.

جاری ھے
امین اقبال

Please follow and like us:

5 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page