AMIN IQBAL BLOGS

ھم جو کاٹتےھیں ،کیاوہ ھم نے بویا تھا؟

ھماری زندگی سے ملاقات تب ھوتی ھے جب ھمارے شعور کی آنکھ کھلتی ھے۔تب ھم اپنی خواھشوں کی پیش بندی کرتے ھیں ۔ھمارا مستقبل کے بارے تجسس ھمیں کچھ نا کچھ کرتے رھنے کی جستجو دیتا ھے۔میرے خیال میں تجسس ھی وہ الیمنٹ ھے جو آپ کو آگے بڑھتے رھنے کی طَرح دیتا ھے۔ ھم اپنے تجسس کی وجہ سے ھی اپنے ھونے کی وجہ تلاش کر پاتے ھیں۔ تجسس کے بعد انسان کی شخصیت کا بڑا خاصہ اسکے تصوّر کی طاقت ھے۔جس سے وہ اپنی زات کا امیج بھی تشکیل دیتا ھے۔ابتدا میں بے شک انسانی یاداشت میں اردگرد کے دیکھے، سنے حالات،واقعات،کردار اور گفتگو ھی ھمارے تصورات میں ایک خیال کو ترتیب دے رھے ھوتے ھیں ـ

لیکن ھمارا خیال انہیں ایک تصور بنانے پر اکساتا ھے۔جس کے بعد ھم اس تصور کے خیال سے بندھ کر بہت سی زندگی بسر کر لیتے ھیں۔اس کی ایک مثال یہ ھے کہ ھم جب سنتے ھیں کہ مرد کبھی روتا نہیں تو اکثر مرد اپنے رونے کو چھپانے کی جدوجہد میں اپنی حساسیت کھو دیتے ھیں۔اور اس کو کھونے کے لئیے ایک سخت مرد ھونے کا تصور اپنے دماغ میں بٹھا لیتے ھیں۔جو لوگ جم کرتے ھیں یا یوگا کی ورزش کرتے ھیں وہ جانتے ھیں” دھیان “یعنی تصور کرنا کہ میرا کونسا مسل ڈیویلپ ھو رھا ھے ,کتنا ضروری ھوتا ھے۔اسی طرح یوگا کے آسن یا میڈیٹیشن کے دوران بھی تصور کی اھمیت بہت زیادہ ھے۔آپ اپنے تصور کے تحت ھی اپنی زندگی کے پلان مرتب کر رھے ھوتے ھیں۔ لیکن اپنے بارے قائم تصور کا امیج دوسروں کے زھنوں پر بھی نقش ھو رھا ھوتا ھے۔مجھے کسی نے کہا آپ کے گرد کبھی کوئی شرابی نظر نہیں آیا۔تو میرے منہ سے نکلا شاید میرا شرابی کا امیج نہیں ھے۔امیج بنانے کے لئے ھم انسان جتنی جستجو کرتے ھیں اور اسکی حفاظت کے لئے جو جتن کرتے ھیں ، کسی اور شے کے لئے شاید ھی ھم زندگی کو اتنے جوکھم میں ڈالتے ھوں۔ اسی لئیے زندگی میں اب انسان کی پہچان، اس کے قائم کردہ امیج سے جانی جاتی ھے، کھلاڑی،مولوی،باباجی،موٹیویشنل سپیکرز،سائنسدان،سیاستدان،ایسے اور بھی بہت سے ٹائٹل ھیں ،ھاٹ،سیکسی وغیرہ۔انسان ان ٹائٹلز کے تصورات میں فٹ ھونے کے لئے جو معیارات پہلے سے طے ھوتے ھیں اس پر پورا اترنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاتا ھے۔اسی لئیے کچھ سیانوں نے امیج بلڈنگ کو ایک کاروبار کا درجہ دے دیا ،اور میڈیا ایجاد کیا ۔جس کاروبار کا بنیادی اصول یہ ھے ۔ایک انسان کی امیج کو بناؤ اور پھر اُسے برباد کرو۔

ریسرچ نے ثابت کیا ھے کہ امیج برباد کرنے پر ریٹنگ ھمیشہ زیادہ آتی ھے ۔اس کی ایک وجہ یہ ھو سکتی ھے۔ ھم سب اپنے جس امیج کو بنانے کی جستجو میں ھوتے ھیں، جب وہ اپنے تصوّر کے معیار کے مطابق نہیں بن پاتا اور اُسےحاصل بھی نہیں کر پا رھے ھوتے ـتو کسی اور کے پرفیکٹ امیج کی دھجیاں اڑتے دیکھ کر ھمیں دلی تسکین ملتی ھے ۔اب امیج بنانے اور زیادہ تر برباد کرنے کا زمہ سوشل میڈیا نے اٹھا لیا ھے، جہاں پی آر کمپنییز باقاعدہ مشتہر کر کے امیج بلڈنگ کا اور اس کو برباد کرنے کا کام کرتی ھیں۔

انسان کوامیج کے اس گورکھ دھندے میں پھنسا کر جو ذھین لوگ ھیں۔ جو انسانوں کے دماغوں کو استعمال کرنا جانتے ھیں۔وہ انکو ایک اخلاقی دائرہ معاشرتی زندگی جینے کے لئے دیتے ھیں۔ اس میں وہ مذھب کو بھی اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے سے نہیں چُوکتے۔انسان اس اخلاقی دائرے میں جب بندھ جاتا ھے اور معاشیات اسکی فکر کو ختم کرنے کی بنیادی کنجی بن جاتی ھےـ تو انسان سے انکار کی صلاحیت چھین لی جاتی ھے۔ساری تعلیم،ماں باپ کا احترام،بڑوں کی تکریم،اور اصلاف پرستی کی حفاظت کرنے کی بنیاد اسی اصُول پر قائم کی جاتی ھے کہ انسان سے انکار کرنے کی صلاحیت کو چھین لیا جائے۔اور جب اپنی معاشی ضرورت پورا کرنے کے لئے آپ کو “یس سر” کے علاوہ کچھ کہنے کی جرآت ھی نا دی جائے۔تو آپ وہ کیسے کر سکتے ھیں جو آپ کرنا چاھتے ھیں۔

آپ وہ بنتے ھیں جو ماں باپ آپکو بنانا چاھتے ھیں۔آپ وہ کرتے ھیں جو آپ کے اداروں کے اصول وضع شدہ ھیں۔ اور یہ سارا عمل ھمارے تصور کو غیر محسوس طریقے سے ھمارا آئیڈیل امیج بنانے پر لگا دیتا ھے۔اور ھم داد لینے کی لالچ میں غلط روایات کے چّنگل میں پھنستے چلے جاتے ھیں ۔ اور پھرھم ویسے جیتے ھیں جیسے ھماری معاشرت ھمیں اجازت دیتی ھے۔ ھمارے تصور میں تبدیلی کو ایک ناممکن عمل بنا دیا جاتا ھے۔اور ھمارے انکار کرنے کی صلاحیت بانجھ ھو جاتی ھے۔جب انسان ناں ھی نا کر سکتا ھو اور نا ھی اپنی مرضی کر سکے،تو پھر ھم جو کر رھے ھوتے ھیں وہ ھمارا ھوتا ھی نہیں ، پھر ایسا کرنے پر جو بھر رھے ھیں وہ بھی ھمارا کیسے ھو سکتا ھے؟۔میرا قطعی مقصد یہ ثابت کرنا نہیں ھے کہ “مکافاتِ عمل،”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے” کا وجود نہیں ھے ۔میرا ماننا ھے یہ وہ اصول ھیں جو اٹل حقیقت ھیں۔ جس طرح کائنات خاص میکنزم کے اصول کے تحت ، دن اور رات ایک مخصوص دائرے میں کولھو کے بیل کی طرح اپنا عملی نتیجہ دکھانے میں مصروف ھے۔ اسی طرح مکافات عمل بھی ھے ۔لیکن انسان جس وصف کی وجہ سے اشراف لمخلوقات کہلاتا ھے ،وہ ھے اس کے پاس اختیار اور ارادے کی طاقت کا ھونا۔جبکہ زمینی خدا سب سے پہلے ھمارے اختیار اور ارادے کا کنٹرول حاصل کرتے ھیں۔

ھمارےسا تھ سب سے بڑی زیادتی تب ھوتی ھے۔ جب ھم جس عمل کے کرنے کے ری ایکشن میں اپنا کرما بھگت رھے ھوتے ھیں۔ اس کو اپنی کی ھوئی غلطیوں کا نتیجہ بھی مانتے ھیں۔ اور پھر پچھتاووں کی ایک لمبی لسٹ ھماری یاداشت کو ھینگ کئیے رکھتی ھے۔اور ھر پل آپ اپنے تصور میں موجود اپنے امیج کی حفاظت کرتے ھوئے زندگی سے بددل ھوتے جاتے ھیں ۔ ھمارا دماغ جو صدیوں کی کوشش سے ایسا پروگرام کر دیا گیا ھے۔ کہ ھم جو بُھگت رھے ھوتے ھیں اس کو اپنے کئیے کی سزا سرِ تسلیم خم کر کے مان لیتے ھیں۔اس لئیے ھم زندگی کے آخری پچیس سال بہت بوجھل ھو کر کاٹتے ھیں۔اور ھمیں گماں بھی نہیں ھوتا جو ھم کاٹ رھے ھیں یہ تو ھم نے بویا ھی نہیں تھا۔

Listen to Audio

120 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page