AMIN IQBAL BLOGS

ایمان لانے سے پہلے(پارٹ2)

میں اَپنے سوالوں کی پوٹلی لئے قرآن کے سامنے بیٹھ چُکا تھا۔قرآن کو کھولتے ھی ،کُچھ اور سوالوں نے آ گھیرا ۔ھمارے ٹیچرز نےبتایا تھا۔کتاب جس زبان میں تحریر ھو، اُسی میں پڑھنا چاھئے ،ترجمہ اکثر رائٹر کا پیغام گَڈ مَڈ کر دیتا ھے۔اِس دلیل کے ساتھ ھی وہ انگریزی کو لازمی قرار دیتے ھوئے کہتے، مُلک کی ترقی کے لئے انگریزی زبان پڑھنا اور سیکھنا لازم ھے ،چونکہ تمام سائینسی ایجادات کو سمجھنے اور ترقی یافتی ممالک کی صَف میں کھڑے ھونے کے لئے ھمیں انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنا پڑے گا ۔ میرے ھاں اب اِس سوال نے جنم لیا ،بقول پروفیسر صاحب، اَگر قرآن اِنسان کا مینئول ھے؟ تو ھمارے ھاں اولین ترجیح عربی زبان سیکھنا ضروری ھونا چاھئے نا کہ انگریزی ؟

میں نے اپنی باقی زندگی میں دیکھا، جِن ممالک کے ھاں قومی،تعلیمی،اور مذھبی زبان ایک رھی، اُن اَقوام نے ترقی بہت جلد حاصل کی۔
دوستو ھر کِتاب اَپنا اثر رکھتی ھے۔ایک عام رائیٹر،اپنی کتاب سے آپکو وھی اَخذ کرواتا ھے، جو وہ کروانا چاھتا ھے۔لیکن جو تخلیق کار ھوتا ھے، وہ اپنی کِتاب پڑھنے والے کو اپنا نتیجہ نِکالنے کی آزادی دیتا ھے ۔لیکن ھر قاری تخلیق کار کی کتاب سے نتیجہ وھی نکال پاتا ھے، جو کتاب کا خالق چاھتا ھے۔مُجھے قرآن کو کھولتے ھی اِس بات کا احساس ھو چُکا تھا ۔اللہ کے اِس فَرمان نے تو میرے دماغ کے سارے طبق روشن کر دئیے ۔

” مومن کی پہچان یہ ھے کہ اگر اُس کے سامنے میرا (اللہ )کلام بھی آئے تو اُس پر آنکھیں بند کر کے یقین نا کرے”
میں حیرانگی سے تَھم گیا ،میرا معاشرہ رات دن اِس بات کا پر چار کرتے تھک نہیں رھا تھا کہ زیادہ غور مت کرو اور آنکھیں بند کر کے تقلید کرتے چلو۔ چونکہ اللہ کی زات پر جِتنا غور کرو گے وہ تمھیں کُفر کے راستے پر لے جائے گا۔ اور اللہ اپنی کتاب میں انسان کو بار بار غوروفکر کرنے پر مائل کرتا ھے۔حتی کہ یہاں تک فرما دیاـ

“جو لوگ اپنی عقل اور فِکر سے کام نہیں لیتے وہ اندھے اور بہرے ھو جاتے ھیں، آنکھیں رکھنے کے باوجود دیکھ نہیں پاتے”

دوستو ھمیں ھر وہ کتاب جَکڑ لیتی ھے جو ھمارے جواب رکھتی ھے، بس ھم کسی پہلے سے بنی رائے کے بغیر اُس کے سامنے بیٹھ جائیں۔میں جِس کتاب کے سامنے بیٹھا تھا وہ تو مجھے ایک الگ ھی راہ دکھا رھی تھی ،جِس پر چلنے سے مجھے آج تک روکا جاتا رھا، کہ میں مسلمان نہیں رھوں گا ،لیکن اللہ کا فرمان کہ رھا تھااِس پر چلو گے تو مسلمان بنو گے۔میں جِس دلیل اور مَنطق کی سزا میں قرآن کے مطالعہ پر مجبور ھوا تھا ، جَب اُس کی تلاش میں نکلا۔ تو حیران رہ گیا۔مارکس کے شراکت کے جس فلسفے سے ھم متاثر ھونے جا رھے تھے۔ اُس کا روڈ میپ قرآن مجھے کچھ یوں سمجھا رھا تھا۔قرآن اسلامی معاشرے میں ھر ایک کو مکمل آزادی سے پیسہ کمانے کی اجازت دیتا ھےـ لیکن پھر وہ کہتا ھے جو تُمھارے پاس اضافی بچتا ھے ،وہ سَب سے پہلے اُن پر خرچ کرو جو آپ سے پیچھے رہ گئے ھیں ،کمزور رہ گئے ھیں اور حاجت مند ھیں۔اپنی کمائی کا فیصلہ خود لینے کا اختیار دے کر اللہ انسان کو زندگی کی دوڑ میں انکریج کرتا ھےـ جبکہ مارکس کے اشتراکی فلسفہ کی وجہ سے جب حکومت انسانوں کو ایک حد سے زیادہ رکھنے کا اختیار نہیں دیتیـ تو وہ اُنکی جستجو کو بددلی میں بدلتا ھے، اور معاشرے میں آگے بڑھنے کی لگن معدوم ھوتی جاتی ھے۔

دوستو میری بنیادی صلاحیت امیجینیشن تھی، اس لئے میں نے قرآن کو پڑھتے ھوئے ویژولائز بھی کرنا شروع کردیا۔قرآن مجھے دکھانے لگا، کِسطرح وقت کے فرعون کی فرعونیت غرق ھوئی ،رشتے حسد کا شکار ھو کر اپنے سگے بھائی یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں دھکیلتے ھیں تو شرمندگی شخصیت کو کھا جاتی ھے۔جب بَنی اسرائیل من و سلوی حاصل کرنے کے بعد بھی نا شکرے رھتے ھیں، تو ناشکری کی سزا زندگی کی ھر سانس کو مُقدَر کر دیتی ھے،نوح علیہ السلام کی قوم جب یقین کو نا اپنا پائی، تو تباہ ھو گئی ،اور کہا جاتا ھے کہ آج کی انسانی نسل نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں کی ایکسنٹنشن ھے اور کچھ مُفکریں کا خیال ھے کہ اَجوج مجُوج بھی حضرت نوح کے ایک بیٹے کی اولاد میں سے ھوں گیں۔ تحقیق کرنے والوں کا ماننا ھے کہ وہ نسل وھی ھے، جو چائنا سے جاپان تک کی پَٹّی پر بسی ھوئی ھے۔

مُجھے قرآن میں موجود جو تاریخی حوالوں سے قوموں کی نَفسیات کے بننے اور بِگڑنے کے حوالے ملے اِس سے انسانی صفات کس طرح کے معاشرے میں پَنپ سکتی ھیں۔ سمجھ آ نے لگا ۔میرا پہلا تَصوّر جو بدلا وہ تھا، اسلام مذھب نہیں ھے بلکہ یہ دین ھے۔آپکے ذھن میں سوال نے جنم لیا ھو گا کہ مذھب اور دین میں کیا فرق ھے؟ میں جو سمجھا ، مذھب وہ ھے جو صرف پرستش پر زور دیتا ھے ۔اگر آج ھم پہلے مذاھب کا جائزہ لیں تو ھمیں احساس ھو گا، اِن مذاھب میں اللہ کے کلام پر انسانی سوچ کی آمیزش حاوی ھو چکی ھے ۔جب پادری نے بادشاہ کی بادشاھت کو مُستحکم کرنے کے لئے مذھب اَپنی عقل سے ثابت کرنا شروع کیا، وھاں فرقوں نے بھی جَنم لیا۔او رچرچ کا کنٹرول رکھنے کے لئے زیادہ تر عبادات کو مذھب کا بنیادی حصہ بنادیا، جس نے راھبانیت کو جَنم دیا ۔ اللہ نے خود اسلام کے لئے دین کا لفظ استعمال کیا اور دین کا مطلب ھے ۔عبادت کے ساتھ عمل کو زندگی کا لازمی جُزو بنانا۔حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد کا خیال رکھنا اور معاشرے کو دین کے اسلوب پر مُرتب کرنا ۔شاید ھم نے ھرعمل کو ثواب اور گناہ کے ساتھ اتنا جوڑ دیا ھے۔کہ میرے جیسے کم علم نوجوان دین کو سمجھنے اور برتنے سے گبھرانے لگتے ھیں۔جبکہ اللہ فرماتے ھیں کہ زمیں اور آسمان تک جتنی جگہ ھے اس کو تم گناھوں یا نیکیوں سے بھر دو تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

مُجھے اِس ایک ماہ کے دوران مطالعہ قرآن کے زریعے یہ سمجھ آئی کہ ھم نے اپنی تَن آسانی کے لئیے اپنی سوسائیٹی کے اندر مولوی میکنزم بنا لیا ھے ۔اور اِسکو دین کی کنجی تھما دی ھے، اب جِس طرح چاھیں وہ دین کا دروازہ کھولیں ۔ھم اُنکی، ھر نکاح ،ھر ختم درود،ھر جنازے کی ادائیگی کے لئے مدد کےمُحتاج ھیں۔ھمیں بچپن میں قرآن ہڑھنے کے لئے ایک قاری کی ضروت ھے۔ھم دنیاوی تعلیم کے لئے تو بی اے کر کے اپنے سے چھوٹوں کو ٹیوشن دے لیتے ھیں، لیکن قرآن کی ٹیوشن کے لئیے ھمیشہ ھمیں ایک مولوی کی ضرورت ھوتی ھے۔اگر ھمیں مولوی کی ضرورت ھے۔ تو معاشرہ اِنکے ضروری ھونے کو تَقویت بھی دے۔ لیکن ھم تو مولوی کو احترام کے چُنگل سے باندھ کر ایک نارمل انسان بھی نہیں رھنے دیتے۔مجھے یاد پڑتا ھے کہ عید کے تہوار پر ھمارے علاقے میں بہت سی سپورٹس ایکٹیویٹیز ھوتی تھیں۔ایک بار مسجد کے مولوی بھی کبڈی کے میچ میں آ گئے، اور اُنھوں نے اِس میں حِصّہ لینے کی خواھش کی ، وھاں موجود اھل علاقہ نے اِنکو کھیلنے نا دیا کیوں کہ اھلِ علاقہ کے خیال میں اِنکے مرتبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ اور جَب مولوی صاحب کےحُجرے سے واک مین ملا ،تو اھلِ علاقہ کا تو سانس ھی پُھول گیا۔سب نے مل کر فیصلہ صادَر کیا اب یہ ھمارے امام نہیں رہ سکتے۔ آج بھی اگر زرا سا غور کریں تو مدرسوں کی تعلیم ھمارے معاشرے میں کیا مقام رکھتی ھے؟وہ ھم سب پر عیاں ھے۔شاید یہی وجہ ھے کہ پاکستان کے قیام کے بعد بہت کم اسلامی مُفکر پیدا ھوئےجن کی تحقیق کو عالم اسلام نے سراھا ھو۔

جیسے میں نے پہلے عرض کی کہ دوسرے مذاھب میں جب انسانی ذھن کی آمیزش شامل ھوئی تو وہ انسانی فلاح کے قابل نہیں رھے۔چُونکہ انسان اَپنی عقل کو ثابت کرنے کے لئے سب سے زیادہ انا کا شکار ھوتا ھے۔جبکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتے ھیں کہ تین چیزیں صرف میں دیتا ھوں ،رزق ،عزت،،اور بصیرت ۔میرے ذہن میں پھر سوال اٹھا جب عقل دے کر مجھے اشرف المخلوقات بنایا تو پھر بصیرت کا اختیار اپنے پاس رکھنے کا فائدہ؟

مجھےزندگی نے سمجھا دیا کہ کوشش کی بہت فوقیت ھے۔انسان جَبلی طور پر سِہل پسند ھے اور سِہل ھونا ھی اس کی ناکامیابی کی وجہ بنتی ھے، اس لئیے جو کوشش کرتا ھے اُسے ھی مُقام حاصل ھوتا ھےـ اور اسے ھی اللہ کی مدد بھی ملتی ھے۔مجھے قرآن نے سمجھایا بندے تیری عقل کی پرواز بہت محدود ھے۔اُس وقت تو اس نکتہ پر بھی میں الجھا، لیکن آج میں یہ کہ سکتا ھوں انسان صرف ،جب اپنی عقل پر اِکتفا کرتا ھے، تو اُس کی آگے بڑھنے کی رفتار بہت آھستہ ھو جاتی ۔کیونکہ عقل کے پختہ ھونے کا اپنا ایک پراسس ھے۔یہ اپنے نتائج بہت ساری ناکامیوں کے بعد نکالتی ھے ۔یہی دیکھ لیجئے کہ آج کا جمہوری نظام انسان نے کتنے سارے طرزِ حُکمرانی کے تجربات ناکام ھونے کے بعد حاصل کیا۔ جس کو آج بھی بہترین اور آ خری معاشرتی سسٹم نہیں مانا جا سکتا۔سائینس بھی اپنے مَفرُوضے کی اَصلیت صدیوں کے ناکام تجربوں کے بعد ڈھونڈھ پاتی ھے ۔اِس کی میں ایک مثال آپ کو اپنے تجربے سے دیتا ھوں ۔یہ انیس سو تراسی کی بات ھے جب میں قرآن کو پڑھ کر اپنے ایمان کی تلاش میں تھا ۔اور اُس وقت قرآن نے بتلایا، “اللہ نے کائنات میں موجود ھر شے کے جوڑے بنائے ھیں”

سائینس نے انیس سو چھیانوے میں اس بات کو تلاش کیا، پودوں میں بھی نر مادہ ھوتے ھیںـ اور یہ احساس بھی رکھتے ھیں۔جبکہ یہ چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا تھا لیکن انسانی عقل چودہ صدیوں بعد اس نتیجے پر پہنچی ۔

دوستو مجھے قرآن نے سمجھایا، اگر ھم اللہ کی وحی پر ایمان لا کر، غورو فکر کرنے والا ایک معاشرہ تشکیل دے پائیں ، تو اِس سے بہتر اِس پلانٹ پر انسانی زندگی نہیں ھو سکتی۔جس میں نا صرف ھماری تخلیقی صلاحیتیں بھی اُجاگر ھوں گیں بلکہ اِنسان اطمینانِ قَلب کے ساتھ جی بھی سکے گا ۔ میرے ليئے اطمیانِ قَلب سے بڑی اِس دنیا میں کوئی اور شے نہیں۔ ھمارا خالق جانتا ھے ایسے معاشرے کی تشکیل سے ھی انسان اپنی ان صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے گا جس کے واسطے اِس کا ظہور ھوا ھے۔

ایک مہینے بعد جب ھم مناظرے میں بیٹھے تو اکثر ھمارے ساتھیوں کے سر جُھکے ھوئے تھے جبکہ اِنکے باپوں کے سَر فخر سے تنے ھوئے تھے۔وہ اپنے عقیدے پہ نازاں تھے لیکن میرے دوست ایمان کے سفر پر نکل چکے تھے۔کُچھ دوستوں کو لگا کہ اِس طرح ھارے تو اَپنی نظر میں گِر جائیں گیں، لیکن وہ شاید نہیں جانتے تھے کوئی اگر قرآن کے بندھن میں نا آنا چاھے تو بے شک وہ آزاد پھرتا رھے۔لیکن جس نے ایک بار قرآن سے فِکر کا بندھن باندھ لیا پھر وہ آزاد نہیں ھو سکتا۔یہی ھوا ،کچھ عرصے بعد وہ بھی قرآن کے سامنے اوندھے پڑے ھوئے تھے۔

دوستو بے شک آپ سارتے،ڈارون،فرائیڈ ،گوتم اور برٹینڈ رسل کو بار بار پڑھئیے۔لیکن اِتنی ھی شِدت سے ایک بار قرآن کو بھی سمجھ کر تو دیکھئے۔

Please follow and like us:

5 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page