AMIN IQBAL BLOGS

تسلیم کرنا مشکل کیوں ھوتا ھے؟

تسلیم کرنا مشکل کیوں ھوتا ھے؟

سوال یہ ھے ،کسی کو تسلیم کرنا ضروری کیوں ھوتا ھے؟۔میرے خیال میں جب کسی انسان میں یہ صلاحیت پیدا ھوتی ھے کہ وہ کسی دوسرے کو تسلیم کر رھا ھے تو اس کا مطلب ھے کہ وہ خود شناسی (self actualization ) کی منزل پر پہنچ گیا ھے۔اور دنیا کے مفکر ین کا کہنا ھے یہی وہ منزل ھے جس کو انسان پانے کی جدوجہد میں خود کو زندگی کی دوڑ میں تھکاتا رھتا ھے۔مجھے یقین ھے آپ میں سے کئی دوستوں کو ایسے سوالوں نے تنگ کیا ھو گا”میں کون ھوں؟”میں دنیا میں کس لئے آیا ھوں؟” ان سب سوالوں کا جواب خود شناسی کی منزل پر پہنچ کر ھی ملتا ھے، اور اس کے لئے ضروری ھے کہ آپ کی فکر مثبت تھاٹ پراسس سے پرورش پائے۔سائنس کہتی ھے کہ جو انسان پر خیال اترتا ھے ،وہ ایک ھی ھوتا ھے لیکن اسکو منفی اور مثبت کا رنگ انسانی موڈ دیتا ھے۔

جس وقت وہ خیال انسان پر وارد ھوتا ھے اگر اُس وقت انسان کی تھنکنگ پازیٹیو ھے تو وہ پازیٹیو ھو جائے گا۔ اور اگر نیگیٹیو سوچ حاوی ھے ۔تو وہ نیگیٹیو ھو جاتا ھے ۔اس کے لئے انسان کے پاس خیال کی آمد کے بعد صرف چھ سیکنڈز ھوتے ھیں، جس میں انسان کا نفسانی سسٹم اِس خیال کی ساخت کا فیصلہ کر دیتا ھے۔اس لئے کہا جاتا ھے کہ مَثبت اندازِ فِکر اپنانا زیادہ سود مند رھتا ھے۔اب اس مَثبت فِکر کے حصول کے لئے ایک شخصی کردار کی تشکیل پانا بہت ضروی ھوتا ھے ۔ ھمارے ظاھری خدوخال تو ھمارے ڈی این اے کے محتاج ھوتے ھیں لیکن ھمارے کردار کا خالق اور معمار معاشرہ ھوتا ھے۔ھم کہ سکتے ھیں گھر بھی اس میں کردار ادا کرتا ھے لیکن میرا ماننا ھے وہ گھر بھی تو اِسی معاشرے کا حصہ ھوتا ھے ۔دوستو انسان جو دیکھتا ھے وھی اپناتا ھے اور اسی سے اُس کی شخصیت تربیت پاتی ھے۔اِس کی مثال آپ ایسے لے سکتے ھیں ۔

اگر آپ کی فیملی میں سے دو سگے بھائیوں یا بہنوں میں سے ایک بچہ ، بچپن ھی میں کسی ترقی یافتہ ملک چلا جائے، تو وہ جواں سالی میں جب لوٹے گا تو اُس کے اطوار ،اُسکا تھنکنگ ایچیٹیوٹ بہت مختلف ھو گا۔ جبکہ اس کی بریڈ تو ھمارے ھاں کی ھے۔ اور اسکا سگا بھائی یا بہن جس نے یہاں پرورش پائی ،وہ ایک مختلف کریکرسٹکس کا حامل ھو گا۔ کیوں کہ دونوں نے جو دیکھا اس کے مطابق انکے کردار نےتربیت پائی ۔انسانی کردار کی تربیت ھی اُس معاشرے کی مجموعی نفسیات کو جنم دیتی ھے۔اس لئے اگر ھم کرہ ارض پر موجود معاشرت پر نظر ڈالیں تو ھمیں ھر معاشرے کی نفسیات مختلف نظر آتی ھے۔جہاں معاشرے کی روایات اور مذہب کا نفسیات ترتیب دینے میں ایک کردار ھوتا ھے ـوھیں پر اقوام کی زندگی پر قومی واقعات کا بھی بہت اثر ھوتا ھے۔اگر ھم اپنے ھاں رونما ھونے والے تھوڑے سے واقعات کو یاد کریں تو ھمیں اپنی معاشرتی نفسیات کا تجزیہ کرنے میں آسانی رھے گی۔ اور ھم جان سکیں گیں کہ وہ کیا وجوھات ھیں جس کی وجہ سے ھمارے کردار میں تسلیم کرنے کی جرآت پیدا نہیں ھوئی؟ اور ھماری شخصیت زیادہ تر منفی سوچ پر گامزن رھنے لگی ۔ان میں سے کچھ واقعات آپکی یاداشت میں تازہ بھی ھو سکتے ھیں لیکن ان کو مفصل طور پر دھرانا نتیجے تک پہنچنے کے لئے ضروری بھی ھے۔اس لئے طوالت کی پیشگی معذرت چاھتا ھوں۔

اُن واقعات کی جس سے ھماری نفسیات مرتب ھوئی ۔ اُسکی ترتیب کچھ یوں بنتی ھے۔1947 میں پاکستان کا معاشرہ بنا جس کے لئے ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ لوگوں نے اپنی زندگی کی بازی ھاری۔کچھ عرصے بعد اِس ملک کا بانی سڑک کنارے خراب ایمبولینس میں زندگی کی بازی ھار گیا۔دوسرا ساتھی لیاقت علی خان لیاقت باغ میں قتل کر دیا گیا۔ملک بننے کے اٹھارہ سال بعد ھی جنگ لڑنا پڑی ابھی اُس سے سنبھل رھے تھے، اُسکے چھ سال بعد ملک دو لخت ھو گیا ۔ایک امید کی شکل میں پاکستان کو ذوالفقار علی بھٹو ملے اور پاکستان کو اپنا آئین ملا جو صرف چھ سال بعد ٹوٹ گیا اور اس آئین کے خالق کو پھانسی چڑھا دیا گیا ـ پاکستان اسلامی جمہوریہ کی بجائے صرف اسلامی پاکستان بنانے کی داغ بیل پڑی، ھم دو سپر طاقتوں کے درمیان پسے اور افغانستان کی جنگ کے اثرات بم دھماکوں کی شکل میں سہے، اِس کے ساتھ ھی ھمارے ملک میں تیس لاکھ مہاجر آ گئے، جن کو ھم نے کھلے دل سے سینے سے لگایا اور ملک میں شیعہ سنی کا فتنہ بھڑک اٹھا ۔کہا یہ جاتا ھے مسلکی منافرت کو اجاگر کرنے کے لئے تقریباً چھ لاکھ اختلافی کتابیں دونوں مکتبہ فِکر کی طرف سے لکھی گئیں، اور کئی ھزار لوگ اس نفرت کی بھٹی میں جل کر اللہ کو پیارے ھوئے۔

ابھی ھم افغانستان کی جنگ جیتنے کے ھینگ اوور میں تھے کہ ھمارے صدر مملکت کے جہاز کو تباہ کر کے ملک کو پھر جمہوریت کی طرف لگا دیا گیا ۔اُسوقت بینظیر ایک امید کی طرح آئیں۔ لیکن دو سال میں ھی آئی جی آئی بنا کر اقتدار سے اِن کوالگ کر کے نوازشریف صاحب کے حوالے کر دیا گیاـ وہ بھی اُتنے ھی سال چلے اور یہ جمھوریت کی میوزیکل چئیر ختم ھوئی 1999 میں ،جب جنرل پرویز مشرف صاحب آئے اور نواز شریف دس سال کا معاھدہ کر کے ملک سے چلے گئے۔پاکستان کو اب روشن خیال بنانے کی داغ بیل پڑی اور ھم پھر ایک بار افغانستان میں امریکہ کی جنگ میں الجھ گئے ۔ جس کی وجہ سے پاکستانی طالبان نے ھمارے ستر ھزار لوگوں کو شہید کیا، دھماکے ھمارے کلچر کا حصہ رھے۔ریاست کے اندر ریاستیں بننا شروع ھوئیں ۔جمھوریت کے زریعے اُمید کو ایک بار پھر کھود کے نکالنے کی کوشش ھوئی ـمحترمہ بینظیر اُمید لئے ایک بار پھرپاکستان پہنچیں ،لیکن اِس اُمید کو لیاقت باغ میں خودکش بمبار کے ذریعے شہید کر دیا گیا۔ھم نے ایک طویل جنگ لڑی اور ابھی اس پر قابو پا رھے تھے تو پانامہ آگیا۔ پھر ایک سیاسی جنگ شروع ھوئی اور کرپشن کے کَچے چَٹھے ایسے کُھلے کہ ابھی تک بند نہیں ھو پا رھے، اور اب ھم کرونا سے لڑ رھے ھیں۔

میں نے اندازہ لگایا کہ جب سے پاکستانی معاشرے کا جنم ھوا ھے۔ ھم ھر پانچ سے چھ سال کے درمیان ایک حادثے سے گزرے ھیں۔ جس نے ھمارے یقین کو مُتزلزل کیا ۔ اور ھمارے اندر تقسیم کو بڑھاوا دیا۔جب قوموں کا یقین مُتزلزل ھوتا ھے تو اُنکو وھاں کے اھلِ فکر اُمید کی ڈور سے باندھ کر اٹھانے کی کوشش کرتے ھیں ۔بدقسمتی یہ ھوتی ھے ،اگر اُمید ، شارٹ ٹرم مقصد پورا کرنے کے لئے دی جائے تو وقت بیتنے کے ساتھ اُس کے نتائج حاصل نہیں ھو پاتے اور قوم مایوسی کا شکار ھو جاتی ھے ۔مایوسی سب سے پہلے اِعتبار ختم کرتی ھے ۔حتیٰ کہ مایوسی تو ایمان کو کھا جاتی ھے۔

اتفاق دیکھئے ھمارا معاشرہ بننے کے ساتھ ھی ھماری ایک نسل نفرت کا بوجھ اٹھائے اپنی مملکت میں پہنچی اور اُس نے بہت زور لگا یا کہ اِس نفرت کو ختم کر دیں کیونکہ وہ لوگ جان چکے تھے ، نفرت میں مخالف سے زیادہ خود کو نقصان پہنچتا ھے۔انسان اپنی مشکلوں اور بڑے حادثوں کو بھلانے کے لئے ھمیشہ سستی اور سطحی فرار تلاش کرتا ھے۔ تاریخ گواہ ھے جہاں قوموں پر جنگی حالات تھوپے گئے یا زھنی دباؤ میں اضافہ ھوا، اُن اقوام کی معاشرت میں سطحی سوچ اور سستی تفریح نے پرورش پائی،

دوستو اب آپ بھی اپنے معاشرے پر بیتے حالات اوراُس کی وجہ سے زھنی فکر کی اِبتلاءکا موازنہ میرے دلائل کی روشنی میں بخوبی کر سکتے ھیں۔ حالانکہ یہ حالات ھی ھوتے ھیں جن کے چیلنجز کا سامنا کر کے انسان خود شناسی کی منزل پاتا ھے ۔لیکن جب اُسکو وقتی امید دی جاتی ھے ، اور وہ بارآور بھی نا ھو پائے،تو مایوسی انسان کو گھیر کر زھنی دباؤ کے سامنے سرنڈر کروا دیتی ھے۔ ایسے میں اپنی نظر میں خُود کو بُلند رکھنے کے لئے ایک نقلی فخر چاھئے ھوتا ھے۔جسے حاصل کرنے کے لئے انسان تقسیم در تقسیم ھوتا چلا جاتا ھے۔ھمارے ھاں تو زبان کو بھی تقسیم کے لئے استعمال کیا گیا۔صرف اِتنے سے فَخر کے لئے کہ “ھم اردو سپیکنگ ” ھیں۔باقی تقسیمیں بھی آپ کو یاد ھو ں گیں کہ کسطرح ھم شیعیہ ،سُنی ،پنجابی ،پٹھان،سندھی ،بلوچی میں تقسیم ھوئے۔ اِس تَقسیم دَر تَقسیم سے ھمیں حاصل کیا ھوا؟

ایکدوسرے سے نفرت کرنے کا جذبہ اور نیچا دکھانے کی جُستجُو۔دوستو جب ھم ایسے حالات کا شکار رھیں گیں اور اپنے سامنے روز ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کو پھلتے پھولتے دکھیں گیں تو ھمارے اندر منفی خیالات کی فیکٹریاں آباد نہیں ھوں گیں تو اور کیا ھو گا؟ ایسے میں انداز فکر منفی رھے گا تو “آمد” ھونے والے خیالات بھی مثبت انداز فکر میں نہیں ڈھل پائیں گیں۔ تقسیم ھمیشہ آپ کے اندر نفرت کو جنم دیتی ھے۔ جب نفرت سستی ھو جائے ۔معاشرے میں دوسرے کو تسلیم کرنا مشکل ھو جاتا ھے۔جب آپ کا فخر ھی دوسرے کی نفی ھو تو ایسے معاشرے میں مثبت فکر کی پرورش کیسے ھو گی؟اگر ھم چاھتے ھیں ،ھم اپنے سوالوں کے جواب تلاش کر کے خُود شناسی کی منزل پر پہنچیں تو ھمیں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا آغاز کرنا ھو گا۔

Please follow and like us:

9 Comments

  • Kazmi Bhai

    انتہائی عمدہ دعوت فکر ہے ، ہمارے سوچنے کے رویے ہمارے تجزیے اور عمل کو بہت متاثر کررہے ہیں۔ معاشرے میں منفی خیالات بے کاری کی وجہ سے عام ہورہے ہیں۔

    مگر ایک اختلافی نوٹ میں درج کرنا چاہتا ہوں، آپ نے لکھا ہے کہ ہر 5 سے 6 سال میں کسی سانحہ سے گزرنے
    وجہ سے ہمارا یقین متزلزل اور سوچ سطحی ہوئی ہے۔ مصائب قوموں اور افراد کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں، انکے عزم کو مضبوط اور قومی ہم آہنگی کو پروان چڑھاتے ہیں۔ خوشحالی انسان کو بے کار اور وحشی بنا دیتی ہے، کیوں کہ جب تک آپ کو محنت کی ضرورت نہیں ہوں گی آپ محنت کرنے سے جی چرائیں گےم

  • Fahad Hashmi

    بلا شبہ نفرت ضرورت زیادہ خود پسندی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا جذبہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہے ۔ معاشرتی نفسیات سمجھنے کے لئے ایک مفید تحریر

  • غلام مصطفیٰ شبلی

    ہم ایک دوسرے کو تسلیم کر کےاپنے خیالات مثبت کرلیں گے. اور کامیاب بھی ہونگے
    آپ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اگر آپ نے تسلیم کیا ہے تو یقیناً آپ جیسے ہزاروں لوگ مثبت سوچ لیے اس معاشرے میں امید کی کرن بنے ہم کو راستہ دکھارہے ہیں.

  • Swera Khan

    بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔

    میری رائے میں انسان کی ذہنیت اور افکار کے کی اپروچ کا تعلق ان معروضی حالات سے ہے جن میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔
    جن واقعات کے تسلل کا آپ نے ذکر کیا یہ محض حادثات ہی تھے ۔ شروع دن سے ہمارے ذہن میں پختہ منفی خیالات کا نتیجہ ہے کہ ہم ان کو منفی معنوں میں ہی دیکھتے ہیں۔ ہماری ذہنی پسماندگی کا سبب کہئے یا تربیت کی کمی، ہم ہر حادثے یا قدرتی واقعے میں بھی کسی سازش کے ڈانڈے تلاش کرنے لگتے ہیں۔

    کہاں تک سیلف ایکچولائزیشن کا تعلق ہے تو یہ منزل ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔ احسن البشر صرف انبیاء تھے یا اولیاء جو زندگی کے حقیقی مقصد کو پا سکے۔ عوام الناس کے لئے یہ مثالیں شائد اتنی کارگر نہ ہوں کہ ہماری سوچ بھی معیشت سے بندھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page