AMIN IQBAL BLOGS

Amin Iqbal Thematic Blog Series Chapter 1: بھوک

 

میں نے اپنا پہلا بلاگ انسانی زندگی کی مختلف مراحل پر ملنے والے”جاب کارڈز” پر لکھا۔ اس بلاگ کا آغاز ان عوامل کی طرف غور کرنے کے لئیے لکھنے جا رھا ھوں۔جس سے انسانی نفسیات کی بنیاد پڑتی ھے۔یہ انسانی نفسیات ھی ھے جو ھمارا کردار متعین کرتی ھے۔انسانی نفسیات کو سات مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ھے۔انکو انسان کی بنیادی ضروت بھی کہتے ھیں۔وہ ھیں،1-بھوک-2سیکس-3-محبت-4-کئریر 5-فیملی-6-سکیورٹی۔7-خود شناسی۔اسطرح میرے اس سلسلے کے سات بلاگز کی ایک سیریز ھو گی۔بھوک اس کا پہلا حصہ ھے۔میں کوشش کروں گا ان بلاگز کو کتابی حوالوں کی بجائیے ،ذاتی تجربات کی بنیاد پر لکھوں۔

ھم جب پیدا ھوتے ھیں۔آنکھیں چاھے بند ھوں ۔لیکن منہ بھوک کے لئیے کھل جاتا۔اس کا مطلب یہ ھوا کہ انسان کا پہلا احساس بھوک ھے۔انسان بچپن ،بڑھاپے کی طرح دوسروں کا محتاج ھوتا ھے۔قدرت نے اسی لئے بچپن میں اسکی خوراک کا انتظام ماں کے وجود میں رکھ دیا ھوتا ھے۔یہ بھوک ھی ھے جس کے لئیے شاید پہلی بار ماں کو رو کر احساس دلاتے ھیں۔لیکن جیسے ھی ھمارے کان سمجھنے اور آنکھیں دیکھنے لگتی ھیں۔ھمارے اردگرد والے ھمارے” کھانے” کے لئیے ھمیں پریشان نظر آتے ھیں۔کوئی ھمیں ذھین بنانے کے لئیے بادام ضروری سمجھتاھے تو کسی کے لئیے کینسر سے بچنے کے لئیے دھی بہت لازم ھے۔یوں ھمیں کھانے کی اھمیت کے ساتھ ایک خوف بھی ذہن نشین کرا دیا جاتا ھے۔

اگر کھانا نہیں کھاؤ گے تو جسم توانا نہیں ھو گا۔ اگر جسم توانا نا ھوا تو دماغ کمزور رہ جائے گا اور دماغ نہیں چلا تو کامیابی نہیں ملے گی۔سب سے اھم بات لاغر انسان کی شادی نہیں ھو گی اگر ھو بھی جائے تو بیوی کو خوش نہیں کر سکے گا۔ھم سب اس بات کے گواہ ھیں کہ بچپن میں کھانا نا کھانے کی ضد پر ھم سب کی ٹھکائی ھو چکی ھے۔اس ٹھکائی کے دوران جہاں ماں کو ھماری سوچ ظالم بنانے پر جُتی ھوتی وھیں ھمارے لاشعور میں یہ بات جم جاتی ھے کہ کھانا ایک ایسی چیز ھے جس کے لئیے ماں اپنی محبت کو بھی بھلا سکتی ھے۔یوں ھمیں اگر کھانا نا ملا تو۔۔۔؟کے خوف کا شکار بن جاتے ھیں ۔نا سمجھی میں کئی بار اسی خوف کی وجہ سے اتنا کھا لیتے ھیں کہ ہیضہ کے مریض بن جاتے ھیں۔اور اگر کسی دن ھمیں کھانے میں کمی آ جائے تو خود کو بدقسمت بھی قرار دینے لگتے ھیں۔کیوں کہ ھم کھانے کو رزق سے مماثلت دیتے ھیں۔(رزق کسے کہتے ھیں اسکا تصور ایک اور بلاگ میں لکھوں گا)۔ ایک اندازے کے مطابق انسان کھانے کے بغیر تین سے سات دنوں تک زندہ رہ سکتا ھے۔مہاتما گاندھی اکیس دن کھانے کے بغیر رہ کرایک ریکارڈ رکھتے ھیں۔

انسانی جسم کو ساٹھ فیصد پانی کی ضرورت ھوتی ھے۔اور جسم کے میکنزم کو چلانے کے لئیے گیارہ وٹامنز اور منرلز چاھئیے ھوتے ھیں۔جب تک ھم ان باتوں کو سمجھنے کی سٹیج تک پہنچتے ھیں ھم بھوک کی ڈپریشن کے غلام بن چکے ھوتے ھیں۔بھوک کا یہی نفسیاتی مسئلہ ھمیں غلط روش کی طرف لے جاتا ھے۔میں یہاں اپنا ایک زاتی قصہ بتاتا ھوں ۔میں ان دنوں راولپنڈی ،شمس آباد رھتا تھا ۔میری سٹرگلنگ زندگی کے ابتدائی دن تھے۔میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ رھتا تھا جو پشاور سے تھے۔ایک لانگ ویک اینڈ پر وہ پشاور چلے گئے۔میں سو کر اٹھا تو پتہ چلا کہ وہ جا چکے ھیں۔میں ان سے ادھار بھی نہیں مانگ سکا۔اب میرے پاس اگلے چار دنوں کے لئیے چار ڈبل روٹی کے سلائس تھے اور میری بھوک کا خوف تھا۔میں نے پہلے پریشانی سے رونا شروع کر دیا۔پھر سوچا کہ انکی کسی چیز کو بیچ دیتا ھوں۔لیکن اخلاقی تربیت کی زنجیروں میں اتنا جکڑا ھوا تھا کہ ھمت نا ھوئی۔پھر سوچا کسی کو لوٹتا ھوں۔اس دن پہلی بار احساس ھوا ۔جو کسی عمل کے انجام کا تصور کرنے کی اھلیت رکھتا ھے ۔وہ بزدل ھوتا ھے۔اور میں بزدل نکلا ۔تین دن بعد بھی جب میں زندہ تھا تو اطمینا ن آ گیا ۔اور میں نے بھوک کے خوف سے آزاد ھونے کا آغاز کیا۔صرف کھانے کو ایک ضرورت سمجھا۔نا کہ مجبوری۔جب انسان کھانا کھا کر توانا ھوتا ھے تو اسکی اگلی ضرورت ھوتی ھے سیکس،اس کے خیال کے آتے ھی آپکے اردگرد والے کسطرح آپکی نفسیات بناتے ھیں ۔یہ اگکے بلاگ میں۔۔

75 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page