AMIN IQBAL BLOGS

ایمان لانے سے پہلے (پارٹ ١)

آپ کا عقیدہ آپکا مقصدِ حیات بن کر بھی کارآمد نہیں ھوتا ۔جب تک آپ اُسے اپنے اِیمان میں تبدیل نہیں کرتے۔میرے نزدیک اِیمان لانا خود کو سٹریم لائن کرنا ھوتا ھے۔عقیدے کے ساتھ آپ بَھٹکتے رھتے ھیں اور ذھن کنفیوژن کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق رھتا ھے۔لیکن جب آپ ایمان لے آتے ھیں۔ تو سوچ میں کلیریٹی آ جاتی ھے۔سوال یہی اُٹھتا ھے، کہ کیسے اس کلیریٹی کی طرف سفر شروع کیا جائے؟

نویں کلاس میں، میرا آئیڈینٹیٹی کرائسز شروع ھوا۔اپنی شناخت کے لئے سوال ذہن میں جمع ھونے لگے، لیکن پتہ یہ چلا کہ سوال کرنے پر تو معاشرے نے پابندی لگا رکھی ھے، ایسے میں آپکے سوال آپکے اندر گَلنے، سَڑنے لگتے ھیں اور آپکے اندر اِنکے گَلنے سَڑنے سے تَعفّن پیدا ھونا شروع ھو جاتا ھے۔ایسا تَعفّن جس کی گُھٹن سے آپکے سوچنے اور تحقیق کرنے کا عمل رک جائے،یہ انسانی شخصیت کی پَرورش کی سَب سے بڑی رکاوٹ ھوتا ھے۔ ایسے میں نامُکمل شخصیت خود تو بھٹکتی ھی ھے۔ ساتھ ھی معاشرے میں کنفیوژن کی آبیاری کرنے کی زِمّہ دار بھی ٹھہرتی ھے-

ابھی میرے سوال گَلنے شروع نہیں ھوئے تھے تو خیال آیا ، پتہ چلاؤں کیا یہ سَوالوں کا بُوجھ صرف میں نے اُٹھا رکھا ھے یا پھر کوئی اور بھی میرا ھَم سفر ھے۔ تُھوڑی سی مغز ماری کرنے پر پتہ یہ چلا کہ پانچ سو سال سے مسلمان دنیا میں ,سوال کو مترُوک قرار دیا جاچکا ھے ۔پھر ایسا کیوں ھوا کہ میں اپنے عقیدے سے ایمان کی منزل کو نا پہنچ سکا؟ اس پر زرا غور کیا تو پَتہ چلا اِنسانی دَماغ کو خاص نِصاب نے کُچھ ایسا پروگرام کیا ھے۔ ھم تابعدار بن چُکے ھیں ،جو صرف ھاں میں سر ھلانا جانتے ھیں ۔ ھمارے خِطے میں جب فیوڈلز کو توڑنے کے لئے تعلیمی نِظام مُتعارف ھو ا تو درخواست کے آخر میں”آپکا فرمانبردار” لکھنے کی روایت کا جنم ھوا ۔جب کبھی مجھے یہ لکھنا ھوتا تو میں ھمیشہ سوچ میں پڑ جاتا ،استاد مجھے فرمانبردار کیوں بنا رھے ھیں؟

بعد میں پتہ چلا بَچپن کی فَرمانبرداری کی ٹریننگ کیپیٹل ازم کی دُنیا میں جاب کے وَقت بہت کام آتی ھے۔تحقیق کے لئے جو پہلی صلاحیت انسان کے پاس ھونی چاھيے وہ “انکار” کی ھے۔جب آپ میں سے انکار کہنے اور سُننے کی صلاحیت ختم کر دی جائے تو اُس مُعاشرے میں تحقیق کیسے جنم لے سکتی ھے؟
خیر میں اپنے سوالوں سے اِتنا اُکتا چُکا تھا کہ ایک دن مَسجد میں مولوی صاحب سے پوچھا،اگر الکوحل بئیر میں ھوتی ھے لسی میں بھی تو ھوتی ھے ،پھر لسی حرام کیوں نہیں؟

مولوی صاحب نےایسی جُرآت مسجد میں پہلی باردیکھی تھی۔وہ غُصہ میں اِتنےآگ بگولہ ھو گئے کہ میری تربیت اور شخصیت کی ماں بہن ایک کر دی۔مولوی صاحب مجھےکہ سکتے تھے ،لَسی ایک قُدرتی پَراسِس ھے لیکن بئیر میں جان بوجھ کر الکُوحل کو شَامل کیا جاتا ھے۔ اس لئے وہ حرام ھے۔لیکن انہوں نے مجھے سوال کرنے کے جُرم میں اتنا ذلیل کیا کہ میرا ری ایکشن پھوٹ پڑا،پھر نمازیوں نے میرے ری ایکشن کے جواب میں جو ایکشن لیا، اُس نے میرے اَنگ اَنگ میں سُوجن بَھر دی۔ ایکسرے نے ھڈیاں ٹوٹنے سے بچ گئی ھیں، کا رزلٹ تو دے دیا ،لیکن دل ٹوٹنے کا نا دیا۔میں دل ٹوٹنے کو چُپکے سے مُرمت بھی کر لیتا لیکن جب علاقے کے لوگ میرے والدین کے پاس مِیری عِیادت کرنے آتے ، تووہ سب میری عِیادت کی بجائے میرے مُجرم ھونے پر دلائل زیادہ دیتے ۔شاید میں نے مُعاشرے کی سب سے محترم ھستی کی شان میں ایسی گستاخی کر دی تھی کہ جو اھل علاقہ مجھے مجرم ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ میرے ماں باپ کو شرمندگی کے کنویں میں بھی دھکیلنا چاھتے تھے۔

اِنسان کا سَب سے پہلا یقین اُنکے والدین ھوتے ھیں۔ھم اپنی سزا کاٹ سکتے ھیں لیکن ماں باپ آپکی وجہ سے مشکل کاٹیں یہ فِطری طورپر بَرداشت سے بَاھر ھو جاتا ھے۔اِس وجہ سے میرے اندر مولوی اور مسجد سے ایک اُلجھن پیدا ھو گئی۔مُجھے محسوس ھونے لگا ۔ کچھ بھی مختلف کرنے کی جُستجو کو یہ معاشرہ ” واہ” نہیں سزا دیتا ھے۔لیکن جب پھر غور کرنے کی عادت نے اُکسایا تو تاریخ کے صَفحوں پر ھر بَڑے اِنسان کو بَڑا اور انسانی فَلاح کا کام کرنے کے جرم میں سزا رقم ملی۔ آنے والے دور میں پھر اُسی بڑے انسان کی قَبر کو یہی انسان سجدے کرتے نَظر آئے ۔اِس سیچوئیشن میں میرے اندر ایک بَڑا انسان چُھپے ھونے کا زُعم پَلنے لگا۔زُعم پاس ھو تو کائنات بونی لگنے لگتی ھے۔ وھاں مولوی کا قَد کیا مَعنی رکھتا ھے۔اِسی دوران کُچھ ھمارے گرُوپ کے دوست لاھور گئے اور انکو مَنطق کے عقیدے نے جَکڑ لیا واپَس لوٹے تو وہ مُسلمان نہیں بلکہ کامریڈ تھے۔کارل مارکس اُنکا ھیرو بن چُکا تھا۔اُنہوں نے واپَس آ کر پہلے ھم دوستوں کے اَفکار کے مُنہ پر وہ وہ دلائل مارے کہ ھم زخمی ھوئے چوک پہ کھڑے تھے۔جو گُزرتا کہتا اِتنے چُپ کیوں ھو ؟تو کیا بتاتے مَنطق اور دلیل کے مارکس نے ھمارے عقیدے کو بھی زِیرو کر دیا ھے۔کَم عِلمی آپ کی شخصیت کو بونا رکھتی ھے ھم سیلف کانفڈینس کے نام پر جِتنے بھی اوور کانفیڈنٹ بن کر پھریں، اندر کا خالی پَن چہرے پر نَظر آتا رھتا ھے۔

دوستو زِھنی ھار سے بڑی اِس دُنیا میں کوئی ھار نہیں۔اب ھم ھارے تھے لیکن ھمیں جِتوانے کے لئے ھمارے سوالوں کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں تھا ،اَپنے ماں باپ کے سامنے کارل مارکس کا نَظریہ رکھا تو وہ بیچارے بھی عقیدہ نبھاتے نظر آئے۔جلدی سے گَھبرا کے کہنے لگے ،ایسی باتیں نہیں کرتے بیٹا ایمان خراب ھوتا ھے۔اب ماں باپ کے پاس نمازی سپورٹ تھوڑی تھی جو انکی تکریم بچانے کے لئے دھلائی کرنے کا خوف میرے سوال روک لیتا۔میں نے بِلا جھجھک کہ دیا ،ھیلو ایمان ھے کہاں؟؟ھماری پشتوں کو مسلمان ھوئے کتنے برس ھوئے ھیں؟ پتہ یہ چلا کہ میں اپنے خاندان کی پانچویں نسل ھوں جو مسلمان کے ھاں پیدا ھو کر مسلمان کہلاتی ھے۔

دوستو عِشق اور مُشک جیسے نہیں چھپتے ،اِسی طرح اِنسان اَپنے اندر آئی تبدیلی کی برتری بھی اردگرد کے لوگوں سے نہیں چُھپا سَکتا۔جلد پتا چل گیا کہ نوجوانوں کا یہ گروہ کافر ھو چکا ھے۔سَب کے ماں باپ کے ھاتھ پاؤں پُھول گئے جِن کے ماں باپ ھاتھ چھوڑ تھے، اُنہوں نے بچوں کی دُھلائی کر کے، اور کسی کی ماں نے اپنے دُودھ کی بتیس دھاروں کی قسمیں دے کر، بچوں کو دوبارہ مسلمان ھونے کی التجائیں کیں۔کوئی اُن نوجوانوں کی سُننے کو تیار نہیں تھا سب اُنکو سُنانے لگے ،ھم بے چارے جو صِرف اُنکے خلاف دلائل ڈُھونڈھ رھے تھے۔ وہ سَب بھی اُنکی چَکّی میں پِسنے لگے،چُونکہ ھَم اُنکے ساتھ بیٹھتے اُٹھتے تھے تو اُنکے خیالات کے حامی قرار دے دئیے گئے۔ ھماراسوشل بائیکاٹ ھو گیا۔جو بھی ھمارے ھینگ آؤٹ کے اَڈّے تھے۔اُن کے مالکوں نے ھمارے ساتھ بائیکاٹ کر کے ھمیں آئیسولیشن میں ڈال دیا۔جب سارا علاقہ اپنی مکمل عقل استعمال کر کے تھک چکا۔تو اکتا کر ھمارے گروپ کو ایک جرگہ کے سامنے لا کر مناظرے کا فیصلہ ھوا۔

اَچھے دن تھے جو بات کر کے قائل کرنے کی کوشش ھو رھی تھی، آج ھوتا ،تو مار دئیے جاتے۔اھلِ علاقہ نے مناظرہ تو طے کر لیا لیکن اُنکو کامریڈ نوجوانوں کے ساتھ بحث کے لئے کوئی مل نہیں رھا تھا ۔ھر مولوی اِسے تعلیم کا قصور قرار دے کر بحث سے مُنہ موڑ لیتا، ایسے میں ایک پروفیسر صاحب جو کہ جمعہ بھی پڑھاتے تھے اور ساتھ کالج میں بھی پڑھاتے تھے، اُنکی مِنت سَماجت کر کے اُس منَاظرے کے لئے راضِی کر لیا۔اُس دن علاقے کے چوک میں اِس کا اھتمام تھا اور میری ماں نے ممجھے راہِ راست پر لانے کے لئے ختم کا بندُوبست کر رکھا تھا۔اُنکا خیال تھا گُڑ والے چاول بانٹنے سے شاید میرے سوال ختم ھو جائیں۔اِس کے لئے مُجھے اُنہوں نے مسجد کے مولوی صاحب کو بلانے کا کہا۔اور آپ تو جانتے ھیں مولوی صاحب کے لئے میرے جذبات کیا ھو چکے تھے۔میں اِدھر اُدھر گُھوم رھا تھا تو ایک صاحب مجھے کامریڈیوں کا ساتھی سمجھ کر بازو سے پکڑ کر مَناظرے میں لے گئے ۔جہاں عِلاقے کے سارے مَرد پرُوفیسر سے آس لگائےبیٹھے تھے۔میرے دوست خود کو درُست ثابت کرنے کے لئیے مارکس کے دلائل اور ڈاکٹر لعل خان کی کتابوں کے حوالے دَھڑا دَھڑ دے رھے تھے۔پروفیسر صاحب سب سنتے رھے ۔جب سب خاموش ھو گئے تو وہ بولے۔آپ کا حق ھے کہ آپ جس پر یقین رکھتے ھو اس کو اپناؤ۔یہ سنتے ھی اھلِ علاقہ کی چیخ و پکار شروع ھو گئی۔پروفیسر صاحب نے سب سے کو ھاتھ جوڑ کر روکا اور بات پورے کرنے کی التجا کی۔وہ دوبارہ بولے،بچو اگر آج ویڈیو کیسٹ پلئر (وی سی پی) یا پھر فریج خریدو گے تو اس کو چلانے کی سِیکھ آپ کو کیسے ملے گی؟

سب ابھی جواب ڈُھونڈھ رھے تھے کہ پروفیسر صاحب بولے،یا تو آپ اُس سے رابطہ کرو گے جو وی سی پی یا فریج چلانا جانتا ھو۔ یا پھر الیکٹرانک کے ان آلات کے ساتھ ملے اِنکے مینوئل کتابچے کو پڑھو گے؟

اب یہ بتاؤ ،اِنسان کا مینئویل کتابچہ کون سا ھے؟ وہ ھے قران مجید ۔قرآن ایک ایسی کتاب ھے جس کا موضوع اِنسان ھے۔ آپ نے مکمل طور اس کو پڑھا نہیں اور آپ خالی دلائل سے انسان کو چلانے نکلے ھو۔آپ لوگوں کے پاس ایک ماہ کا وقت ھے ۔آپ پہلے قرآن کا مطالعہ کرلو۔ اگر آپ کو آپکے دلائل کا جواب نا مِلا تو میری طرف سے آپ کو اِجازت ھے کہ آپ اپنی زندگی کے لئے جو راستہ چُننا چاھو ،چُن لینا۔
اِس بات پر پروفیسر صاحب کی اھلِ علاقہ نے خوب کھنچائی کی، لیکن آخر کار پروفیسر صاحب یہ بات سمجھانے میں کامیاب رھے کہ میرے دلائل سے کہیں بڑے دلائل اللہ کے کلام میں ھیں۔وہ جیسے سمجھاتا ھے وہ ایک کمزور پروفیسر کبھی نہیں سمجھا سکتا ۔اھلِ علاقہ نے پروفیسر کے منہ پر چڑھ کر بولا ،اِنکی عُمریں دیکھیں یہ اللہ کے کلام کو کیسے سمجھ سکتے ھیں کِسی عالم کے بغیر؟

لیکن بے چارے اھلِ علاقہ صرف اس لئے قائل ھوئے کیونکہ اُنکے پاس شاید پروفیسر کے علاوہ کوئی اور امید نہیں تھی۔ دوستو کِتاب سے دوستی انسانوں کی بہت مشکل سے ھوتی ھے۔کِتاب ھمارے ویژن کو بڑھانے اور انفرمیشن کو جمع کرنے کا زریعہ بننے کے ساتھ ساتھ ،سب سے زیادہ ھماری امیجینیشن سکلز کو بڑھاتی ھے۔لیکن افسوس دُوسری کتابوں کی طرح قرآن بھی ایک ایسی کتاب ھے جس کو پڑھا بہت جاتا ھے سمجھا نہیں جاتا۔لیکن پروفیسر صاحب نے ھمیں ایک دلچسپ طریقے سے قرآن کو سمجھنے کا راستہ دِکھا دیا تھا۔میں تو اَپنے سوالوں کی پُوٹلی ساتھ رکھ کے فورا قرآن کھول کر بیٹھ گیا۔مُجھے اِس بات کا بلکل خوف نہیں تھا کہ سوال پوچھوں گا تو رب جواب دینے کی بجائے میری پٹائی کروائے گا۔بَس ڈَر تھا تو اھلِ علاقہ کی طرح اِس بات کا،کیا میں کِسی عالم کی مدد کے بغیر وھی سمجھ پاؤں گا جو رب سمجھانا چاھتا ھے؟

جاری ھے

Please follow and like us:

7 Comments

  • Anonymous

    بھائی جی آپ کی دھمکی کے زیر اثر جلدی جلدی طویل تحریر پڑھی، سوال ایک فطری نشو و نما کی علامت ہے، جواب دینا معاشرے پر فرض ،معاشرہ جواب کی ذمہ داری والدین،اساتذہ اور دانشو روں اور رہناموں کی ہوتی ہے ۔صوفیا ان کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں جنہیں کوئی جواب نہ دے سکے ۔بہت خوب لکھا

  • Muhammad Azhar Hafeez

    خوبصورت تحریر بہت سارے چھپے پہکے اجاگر کئے اور یہ بھی بتا دیا سوالوں کے جواب مینوئل میں موجود ھے شکریہ اتنی اچھی تحریر کیلئے

  • Kiran khurshid

    بے شک انسان کی جستجو اور علم حاصل کرنے کی چاہ اللّٰہ کے اور قریب لاتی ہی

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page