AMIN IQBAL BLOGS,  AMIN IQBAL OFFICIAL

کالم vs عالم

ھم خُود کو ثابت کرنا چاھتے ھیں ۔اوائل عُمری میں یہ تو پتہ نہیں ھوتا کہ مجھے کیا ثابت کرنا ھے۔لیکن جُستجُو ھوتی ھے کچھ کر دکھانے کی،اِسی دوران اگرآپ کو پتہ چل جائے کہ بات تو آپ اچھی کر سکتے ھیں، لیکن دنیا یہ نہیں دیکھتی بات کیا ھے؟ وہ یہ دیکھتی ھے کہ بات کرکون رھا ھے ۔ایسے میں آپ کے دماغ یہ سما جاتا ھے پہلے اپنا قد پیدا کرو تا کہ گَردنیں سُننے کے لئے آپکی طرف مُڑ سکیں۔تو سوچا قد کاٹھ بنانے کے لئے وہ کام اپناتے ھیں جِس سے لوگوں میں ایک امیج بنے کہ بندہ دماغ کا دَھنی ھے۔اِن دنوں قلم کی بڑی عِزت تھی اور قلم کار پر خدا کے کرم کا تصور بھی عام تھا۔اور جب بات خدا سے جُڑ جائے تو وھاں تمام دَلائل کی موت ھو جاتی ھے۔دوستو آگے بڑھنے سے پہلے میں تھوڑا سا اَپنی ذاتی کہانی میں آپ کو رازدار بنانا چاھتا ھوں۔

میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔انسان واحِد شے ھے جس کے اکلوتے ھونے کاجتنا ایڈوانٹیج ھے۔اُتنا شاید کسی اور میں نہیں ھے ۔اِس لئے، میں کوئی بڑی شے ھوں، اِس بات کا خَنّاس اپنے دَماغ میں پال چُکا تھا۔دماغ جب کَچّا ھو تو قدر کی پہچان کہاں ھوتی ھے۔شاید اِسی لئے کہتے ھیں انسان صحیح وقت پر اپنے اِدراک کو پُہنچے تو تَب ھی ٹھیک رھتا ھے۔تو میں اکلوتا تھا اور میرے نَخرے میرا حَق تھا ،اور میرے والدین میرے اے ٹی ایم تھے ـجو کسی پِن کُوڈ کے بغیر میرے سامنے وا رھتے تھے۔

اِن سب باتوں نے مجھے اس پہ قائل کر دیا کہ میں دنیا میں اِس لئے آیا ھوں کہ دنیا والے میری قدر کریں اور میری ھر بات کو بجا لائیں اور اگر کوئی اِس سے رُوگردانی کرے تو وہ انتہائی ناھَنجار اور فضُول انسان ھے۔انہی دنوں میری کلاس میں میرے دوست شکیل، پنجابی شعر کہنا شروع ھوئے۔ اِنکو جلد ھی شاعری پر اتنی قدرت حاصل ھو گئی کہ ھماری کلاس کے ٹیچر اکثر اُن سے شعر سننے کی فرمائش کرتے اور اُنکو داد بھی دیتے۔اب میری موجودگی میں کِسی اور کو داد ملے اِس سے بڑا میری نظر میں معاشرے کا اور جُرم کیا ھو سکتا تھا۔میں نے بھی ٹھان لی کہ شکیل کی قَدر تو چھین کر رھوں گا۔اور ایک کہانی لکھنی شروع کی لیکن دماغ کی تربیت ھی نہیں ھوئی تھی، کہانی کار بننے کے لئے نا میں نے ابھی وہ جَتن کئے تھے کہ خدا مہربان ھو کر مجھے آمد عطا کر دیتا۔ صِرف کہانی لکھنے کے خیال سے قلم کہانی نہیں اُگلتا ۔ تو جناب بہت کروٹیں بدلیں ۔جب خیال آپکی خواھش کو پُورا نا کر رھا ھو تو بے چینی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ھے۔اور میں آج محسوس کرتا ھوں کسی سے تقابل کرنے میں جتنا اعتماد آپ کا کَم ھوتا ھے شاید ھی کسی اور عمل سے ھوتا ھو۔ عمر ھی ابھی کَچّی تھی۔پَکّی باتیں ذھن میں نہیں آ رھی تھیں۔رات کے آخری پہر ایک خیال ذہن نے میرے سُوچنے کی ڈھٹائی سے اُکتا کر آخر کار دے ھی دیا ۔میری امی کو کچھ دِن پہلے اُنکی دوست نے ایک واقعہ سنایا تھا اور میں تو اپنی قدر کو سنبھالنے کے لئیے چَوکنّا رھتا تھا اور جب کوئی اماں، ابا کے کان کے پاس ھوتا میرے کان ویسے ھی کَھڑے ھو جاتے۔ یوں کچھ اس کانا پھوسی میں سے باتیں میرے کان میں بھی پڑ گئیں ۔سوچا ان باتوں کو جوڑ کر کچھ لکھتا ھوں۔یوں ایک افسانے کا جنم ھوا ۔

اِس افسانے میں کُچھ ھوتا یوں ھے کہ ایک عورت بیاہ کر غریب گھر سے غریب گھر میں آتی ھے۔اس کی ساس اور میاں ملا کر اب تین افراد پر اِسکی فیملی بن جاتی ھے۔میاں بیوی طے کرتے ھیں کہ جب تک مُعاشی حالات اچھے نہیں ھوتے تو بچہ پیدا نہیں کرتے۔پہلے سال کے بعد بیوی کو بانجھ ھونے کے طعنے ملنے لگتے ھیں۔جِس سے اِس کے اند زِندگی کا سامنا کرنے کا اعتماد کم ھوتا جا تا ھے ۔پانچویں سال میں بیوی اِن طَعنوں سے اُکتا کر میاں کے سامنے ڈٹ جاتی ھے کہ مجھے ماں بننا ھے۔میاں لاچار قائل نہیں کر پاتا اور وہ ماں باپ بن جاتے ھیں۔لیکن بچے کے پیدا ھوتے ھی ڈاکٹر بتاتے ھیں کہ ماں کے دودھ میں مسئلہ ھے اِس لئے اُسے ابتدائی طور پر نیڈو دیا جائے جو اِنکے ماھانہ اخراجات پر بوجھ بنتا ھے ۔خاوند اوور ٹائم شروع کرتا ھے۔یوں گھر کا نظام خراب ھوتا ھے، کبھی ماں کو اپنی شوگر اور بلَڈپریشر کی دوائیاں نا ملنے کی شکایت، کبھی بیوی کو رات دن کام والی بن کے رہ جانے کا شِکوہ،رات کو بچے کی ریں ریں الگ میاں بیوی کو سونے نا دے ۔چڑ چڑاھٹ اتنی بڑھ جاتی ھے، کہ ایک دن انجانے میں بچے کے رونے پریہ اُسکے منہ پر تَکیہ رکھ دیتے ھیں اور تکئے پر اپنا بازو،بچہ دم گھٹنے سے مر جاتا ھے۔میاں بیوی کچھ دنوں بعد اِس غم سے نکلتے ھیں تو ان کو جینے میں آسانی محسوس ھوتی ھے خاص طور پر بیوی میں اعتماد واپس آ جاتا ھے کیونکہ اب اُسے کوئی بانجھ نہیں کہتا تھا۔

تو دوستو یوں میں نے جب اس کہانی کو مکمل کیا تو میرے تکبر میں اِضافہ ھو چکا تھا۔یقین جانئے لوگ غلط کہتے ھیں کہ انسان کو اپنی اولاد ھی اچھی لگتی ھے۔جناب انسان کو جِتنی اپنی سوچی ھوئی بات اچھی لگتی ھے اِس کے سامنے کسی اور شے کا مقابلہ ھی نہیں۔دوستوسب سے پہلے نیچا دکھانے کے لئے میں نے اپنے دوست شکیل کو یہ کہانی سنائی۔اس نے کہانی کے انجام پر کہا کہ میں تو شاعر ھوں اور تُم نثر لکھ رھے ھو ۔کیوں نا تم اُن سے مِلو جو میرے اَشعار کو دُرست کرتے ھیں۔یہ بات سُن کر کمینی سی خُوشی کا اِحساس ھوا،چلو اِس کو جہاں سے داد لینے کا طریقہ مِلا ، وہ راستہ مُجھے بھی مِل گیا۔شکیل نے بتایا اُنکو ھم بابا بشیر کے نام سے بُلاتے ھیںـ اور وہ علاقے سے دُور کھیتوں میں ایک کُٹیا میں رھتے ھیں۔ میں اُن سے بات کروں گا اور تُمھیں اُن سے ملنے کا وقت بتا دوں گا۔

مُجھے بابا بشیر سے مِلنے کا اَگلے ھی دن مَغرب سے پہلے کا وَقت مِل گیا۔میں اَپنی تحریر کو سِینے سے لگائے بابا جی کی کُٹیا میں پُہنچ گیا۔کُٹیا کے باھر اُنہوں نے زمین پر کَچی مَٹی کا لیپ کر رکھا تھا۔ایک سائيڈ پر ایک لکڑی کے سٹینڈ پر تین کَچے گَھڑے ٹِکے تھے، جبکہ بابا بشیر سفید کرتے اور دُھوتی میں جھاڑو دے رھے تھے۔اُن کا حُلیہ دیکھ کر ابھی میں اِسی شَش و پَنج میں تھا کہ یہ شخص کا وہ قد تو نہیں جو میری تحریر کو جج کر سکے۔کہ اُنہوں نے کہا ،جُوتا اُتار کر اندر آنا۔اب اِس سے بڑی تحقیر کیا تھی، اِتنا مہنگا جُوتا نسان پہن کر جائے اور گھر والے اتارنے کا کہ دیں ،آج بھی کئی لوگوں کے چہرے پر بل پڑتے دیکھیں ھیں۔ خیر پتہ نہیں کیوں اُنکی بات مان کر اندر داخل ھوا ۔اُنہوں نے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔میں نے بتایا کہ شکیل میرا دوست ھے اور یہ افسانہ دکھانے لایا ھوں۔اُنہوں نے کہا یہ کاغذ یہاں رکھ دو اور پہلے ایک گھڑا پانی بھر کر لا دو۔میرے تو تَن بَدن میں آگ لگ گئی ۔

میں ،جس کی ماں پانی کا گلاس بھی نیچے سے اٹھانے نہیں دیتی اُس کو پانی بھر کے لانا ھے۔خیر یہ بھی سوچا کہ کر دیتا ھوںـ کیا یہ بابا یاد رکھے گا ۔میں غُصّے میں بَھرا ٹیوب ویل تک پہنچا ،جو بابا بشیر کی کُٹیا سے کافی دُور تھا۔وھاں تک جاتے بابا جی کو وہ وہ گالیاں دِیں جو اُسی وقت ایجاد کی تھیں، پانی بَھرنے تک سُورج نے زمین کو سِی آف کہنا شروع کر دیا تھا، میں واپسی پر اردگرد کا نظارہ کرتے واپس پہنچا تو بابا بشیر اَپنی کُٹیا میں نِیم دراز تھے ،اور میرے کاغذ اُن کے سامنے سَر نگُوں سے پڑے تھے۔مُجھے دیکھتے ھی بولے،لے آئے پانی؟میں نے ھاں میں سر ھلا دیا۔بولے یہ بتاؤ ۔جب پانی بھرنے جا رھے تھے، تو دماغ اور دل میں کیا چَل رھا تھا۔میں بولا ، بابا جی سچ بولوں گا۔بُرا تو نہیں منائیں گیں؟وُہ مُسکرائے اور بولے ،صرف اپنا سچ نا بولنا پورا سچ بولنا۔اُس وقت تو اُنکی بات سمجھ نہیں آئی ۔میں نے بہر حال دِل کی بَھڑاس نکال دی اور کہا۔بابا جی آپ کو بہت گالیاں دیں کیونکہ۔۔۔اُنہوں نے مُجھے ھاتھ کے اِشارے سے روکا اور بولے، سَچ کی صفائی نہیں دیا کرتے۔بَس تُم اب یہ بتاؤ جَب واپس آ رھے تھے اُس وقت دل اور دماغ میں کیا چل رھا تھا۔

مُجھے ایسے محسُوس ھُوا جیسے میں فلیش بیک میں چلا گیا ھوں اور میں ایک ٹرانس میں جا کر ایک ایک لمحہ بتانے لگا۔ بابا جی میں نے پہلی بار اِتنا خُوبصورت دن کا شام سے ھوتا مِلن دیکھا ھے۔ھَوا کی تھَکی تھَکی آواز سُنی ،جیسے وہ بھی اب سُونا چاھتی ھے۔پِرندوں کو اطمینان سے بھر پور اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹتے دیکھا۔بابا جی میں نے دیکھا جیسے دَرخت ،ھوا،پِرندے ایک دوسرے کو الوِداع کہ رھے ھوں۔ اور بابا جی ایک بات بھی سیکھی ،غُصّہ صِرف عَقل کو نہیں کھاتا ،بَندے کی بِینائی بھی کَھا جاتا ھے۔مُجھے جاتے ھوئے کُچھ نَظر نہیں آیا، جو واپسی میں غُصّہ اُترنے کے بعد آیا۔

بابا بشیر مسکرائے اور کاغذ میری طرف بڑھا کر بولے ،بیٹا جَب پانی بھرنے کیلئے جانے والے نہیں ،پانی بھر کے واپس آنے والے موڈ میں ھو تو تَب لکھنا۔

دوستو اِن دنوں محترم مولانا طارق جمیل صاحب اور محترم اینکرز اور کالم نویسوں کے درمیان ھوتا معاملہ دیکھا۔تو مجھے بابا بشیر یاد آ گئے۔جتنے بھی اِس مُعاملے پَر دلائل دیکھے اور پڑھے ۔مجھے ایسا محسوس ھوا کہ وہ ھم سَب نے پانی بھرنے والے موڈ میں ھی دیئے ھیں۔جانے کیوں یہ ضروری ھو گیا ھے کہ ایک شُعبہ آئے تو اُسکا قَد دُوسرے شُعبے کو نیچا دکھا کر ھی اُوپر اٹھ سکتا ھے۔آج سوشل میڈیا نے الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ دُشمنی کا بازار گرم کر رکھا ھے۔اور پولیٹیکل پارٹیز کی طرح مسلکوں کی طرح ھمارے گرُوپس بنتے جا رھے ھیں ،جنہیں میری طرح اپنے دوست شکیل کو نیچا دکھا کر اپنا قَد اُونچا کرنا ھے، اور سب ھی بات کرتے ھوئے گھڑا اٹھائے پانی بھرنے جا رھے ھوتے ھیں، دل اور دماغ صِرف اُنکی اناؤں کے الاؤ میں اُنھیں نہیں جَلا رھا۔کُچھ نا کُچھ اُس کی تَپش ھم سَب تک پُہنچ رھی ھے۔ ھم سَب اِتنا تو کر سکتے ھیں کہ عالم بمقابلہ کالم کی لڑائی میں اَپنا مُوڈ پانی بَھر کر واپِس آنے والے جیسا رکھیں۔

Please follow and like us:

7 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »
You cannot copy content of this page